پنجاب میں پناہ گاہوں کی بندش: غریب دشمنی یا سیاسی انتقام؟

داتا دربار پناہ گاہ کا انہدام: غریب مزدوروں سے چھت چھن گئی

پنجاب میں مریم نواز کی قیادت میں موجودہ حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کے دور کے فلاحی منصوبوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ہیلتھ کارڈ کی سہولیات میں کمی کے بعد اب لاہور میں داتا دربار کے قریب قائم ‘پناہ گاہ’ کو بھی گرا دیا گیا ہے۔ یہ پناہ گاہ سینکڑوں ایسے مزدوروں اور مسافروں کا ٹھکانہ تھی جن کے پاس رات گزارنے کے لیے کوئی دوسرا آسرا نہیں تھا۔

سیاسی ترجیحات یا عوامی فلاح؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پناہ گاہوں کی بندش کی بڑی وجہ ان کا عمران خان کے دور میں شروع ہونا ہے۔ سیاسی انا کی اس جنگ میں وہ غریب طبقہ پس رہا ہے جو شدید سردی اور گرمی میں سڑکوں پر سونے پر مجبور ہے۔ داتا دربار جیسے مصروف علاقے میں پناہ گاہ کا ختم ہونا ان دیہاڑی دار مزدوروں کے لیے بڑا دھچکا ہے جو دور دراز شہروں سے رزق کی تلاش میں یہاں آتے ہیں۔

  • مفت رہائش اور کھانا: ان پناہ گاہوں میں غریبوں کو نہ صرف چھت بلکہ باعزت طریقے سے کھانا بھی فراہم کیا جاتا تھا۔
  • سماجی تحفظ کا خاتمہ: پناہ گاہوں کی بندش سے سڑک کنارے سونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ ایک انسانی المیہ ہے۔
  • انتظامی جواز: اگرچہ حکومت اسے انتظامی بنیادوں پر درست قرار دے رہی ہے، لیکن متبادل فراہم نہ کرنا سوالیہ نشان ہے۔

“ریاست کا کام غریبوں کو سہارا دینا ہوتا ہے، لیکن یہاں سیاسی بنیادوں پر بنے بنائے فلاحی مراکز کو مسمار کیا جا رہا ہے، جو کہ افسوسناک ہے۔”

عوام میں پایا جانے والا غم و غصہ

سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس اقدام کو ‘غریب کش’ پالیسی قرار دیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ سیاسی اختلافات کو عوامی فلاح سے الگ رکھا جائے اور غریبوں کے لیے بنائے گئے ان منصوبوں کو بند کرنے کے بجائے مزید بہتر بنایا جائے۔

شیئر کریں
Scroll to Top