کسانوں کا معاشی قتل؛ حکومتی پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج

کسانوں کا معاشی قتل؛ حکومتی پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج

تعارف

پاکستان کی معیشت کی اصل بنیاد اور ریڑھ کی ہڈی زراعت ہے، لیکن آج اسی شعبے کو دانستہ طور پر تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا گیا ہے۔ ملک بھر کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں کسان سراپا احتجاج ہیں اور اپنا حق مانگنے کے لیے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ موجودہ حکومت کی ناقص حکمت عملی، ہوشربا مہنگائی اور غیر ملکی ڈکٹیشن پر مبنی فیصلوں نے کسانوں کا معاشی قتل کر دیا ہے۔ یہ احتجاج محض چند مراعات کا مطالبہ نہیں ہے، بلکہ یہ ملک میں تیزی سے سر اٹھاتے ہوئے ایک سنگین غذائی بحران (Food Security Crisis) کا خطرے کا الارم ہے۔ جب محنت کش کسان اپنے کھیت چھوڑ کر احتجاج کے لیے شاہراہوں پر آ جائے، تو یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ ریاست کا معاشی نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔

پس منظر

اگر ہم گزشتہ چند سالوں کی زرعی پالیسیوں کا جائزہ لیں تو صورتحال کا فرق اور تباہی کے اسباب بالکل واضح ہو جاتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے دورِ حکومت میں زراعت کے شعبے نے ملکی تاریخ میں شاندار ترقی کی تھی۔ اس وقت کسانوں کو کسان کارڈ کے ذریعے براہ راست سبسڈی دی گئی، مڈل مین اور مافیا کا کردار محدود کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں کسان خوشحال ہوا اور گندم، مکئی، چاول اور گنے کی ریکارڈ پیداوار حاصل ہوئی۔ ملکی معیشت کا پہیہ تیزی سے گھومنے لگا تھا۔

تاہم، موجودہ حکومتی سیٹ اپ نے اقتدار میں آتے ہی ان تمام کسان دوست پالیسیوں کا گلا گھونٹ دیا۔ پچھلے دو سالوں کے دوران کھاد کی بلیک مارکیٹنگ عروج پر پہنچی، زرعی ادویات پر ٹیکسز کی بھرمار کی گئی اور ٹریکٹر سمیت دیگر زرعی آلات کی قیمتوں میں ناقابلِ یقین حد تک اضافہ کر دیا گیا۔ کسان کو ریلیف دینے کے بجائے، نظام نے اپنے منظورِ نظر مافیاز کو کھلی چھوٹ دے دی ہے جس نے کسان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

حالیہ صورتحال

اس وقت پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں درجنوں کسان تنظیمیں اور عام کاشتکار شدید سراپا احتجاج ہیں۔ حالیہ بحران کی سب سے بڑی وجہ گندم کی خریداری (Wheat Procurement) کی انتہائی ظالمانہ اور غیر منصفانہ پالیسی ہے۔ ایک طرف حکومت نے کسانوں سے گندم کا سرکاری ریٹ مقرر کیا، لیکن دوسری طرف باردانہ (بوریوں) کی فراہمی کے عمل کو اس قدر پیچیدہ کر دیا کہ عام کسان رل کر رہ گیا۔

اسی دوران حکومتی سرپرستی میں امپورٹ مافیا نے سستے داموں غیر ضروری طور پر بیرون ملک سے گندم درآمد کر لی، تاکہ مقامی مارکیٹ کو کریش کیا جا سکے۔ اس سازش کے نتیجے میں مقامی کسان اپنی چھ ماہ کی خون پسینے کی کمائی کوڑیوں کے بھاؤ مڈل مین کو بیچنے پر مجبور ہے۔ مزید برآں، یوریا اور ڈی اے پی کھاد کی بوریوں کی قیمتیں غریب کاشتکار کی پہنچ سے مکمل طور پر باہر ہو چکی ہیں، جبکہ زرعی ٹیوب ویل چلانے کے لیے بجلی کے ہوشربا بلوں اور مہنگے ڈیزل نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ اپنے جائز حقوق مانگنے پر ریاست نے کسان کو مذاکرات کی میز پر بلانے کے بجائے ان پر لاٹھی چارج، آنسو گیس اور گرفتاریوں کا کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔

تجزیہ / عوامی اثرات

کسانوں کے اس منظم معاشی استحصال کے اثرات صرف دیہاتوں یا زرعی رقبوں تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ اس کا خمیازہ پاکستان کے ہر شہری اور خاص طور پر تنخواہ دار طبقے کو بھگتنا پڑے گا۔ زراعت محض ایک پیشہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے۔ جب کسان پیداواری لاگت پوری نہ ہونے کے خوف سے اگلی فصل نہیں اگائے گا یا پیداوار میں کمی آئے گی، تو شہری منڈیوں میں آٹا، سبزیاں، دالیں اور دیگر بنیادی اشیائے خوردونوش نایاب ہو جائیں گی۔

اس وقت ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 12.16 فیصد کو عبور کر چکی ہے؛ خوراک کی پیداوار میں کمی اس طوفان کو مزید تباہ کن بنا دے گی۔ اس تناظر میں پی ٹی آئی قیادت اور آزاد معاشی ماہرین کا یہ مؤقف بالکل درست اور مبنی بر حقیقت ثابت ہو رہا ہے کہ حقیقی ملکی پیداوار اور زراعت کو فروغ دیے بغیر کوئی بھی معاشی اعشاریہ یا حکومتی استحکام کا دعویٰ محض ایک دھوکہ ہے۔ موجودہ حکومت اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ اور آئی ایم ایف (IMF) کی کڑی شرائط پوری کرنے میں اتنی اندھی ہو چکی ہے کہ اسے بنیادیں کھوکھلی ہوتی نظر نہیں آ رہیں۔ کسانوں کو ملنے والی سبسڈیز ختم کر کے سارا بوجھ عام آدمی پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

نتیجہ

کسانوں کا یہ ملک گیر احتجاج موجودہ حکومتی نظام کی ترجیحات کے خلاف ایک واضح عوامی چارج شیٹ ہے۔ ریاست کو اب یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ زراعت اور کسان کو تباہ کر کے نہ تو معیشت بچائی جا سکتی ہے اور نہ ہی ملک کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ جب تک حکومت اپنی کسان کش پالیسیوں کو فی الفور ترک کر کے کھاد، بجلی کے نرخوں اور گندم کی منصفانہ خریداری کے حوالے سے کسانوں کو براہ راست اور ٹھوس ریلیف فراہم نہیں کرتی، یہ عوامی غصہ ٹھنڈا نہیں ہوگا۔

پاکستان کو اس وقت ایک ایسی باشعور لیڈرشپ اور حقیقی عوامی مینڈیٹ والی جمہوری حکومت کی اشد ضرورت ہے جس کی جڑیں عوام میں ہوں اور جو درآمدی مافیا کے بجائے مقامی کسان کی پشت پناہی کرنے کا حوصلہ رکھتی ہو۔ اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے اور طاقت کے زور پر کسانوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی، تو زراعت کی یہ تباہی اور اس کے نتیجے میں آنے والا قحط پورے ریاستی ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

مزید اہم خبریں :۔

شیئر کریں

تازہ ترین خبریں

Scroll to Top