بغضِ عمران کیا ہے؟ ایک فکری اور معاشی تجزیہ

بغضِ عمران کیا ہے؟

سوشل میڈیا پر لوگوں کے سوالات دیکھتا ہوں اور انکے جوابات آسان زبان میں دینے کی کوشش کرتا ہوں، شاید مجھے پروفیسر ہونا چاہیے تھا، میرے والد سیاسیات کے پروفیسر تھے، شاید اُنکا اثر ہے

ایک پوڈکاسٹ میں ایک شخص جو پہلے اپنے آپ کو صحافی کہتا تھا، اور اب سیاست دان کہتا ہے، میں اسے نا صحافی اور نا سیاست دان مانتا ہوں، بلکہ تکبر، بغض، حرص اور موقع پرستی کا ایک شہکار سمجھتا ہوں، جو کسی بھی معاشرے کے زوال کے وقت نمایاں ہوتے ہیں

ایک سوال اُٹھایا گیا کہ بغضِ عمران کیا ہے؟ چلیں میں سمجھا دیتا ہوں

عمران خان کے دور حکومت میں 2022 میں کورونا کے بعد جب عالمی معیشت ڈوب گئی تھی تو صرف ایک سال بعد پاکستان کی سالانہ معاشی پیداوار 6.1 فیصد کی رفتار سے ترقی کر رہی تھی اور دُنیا پاکستان کی کورونا ہینڈلنگ کو بہترین قرار دے رہی تھی، رجیم چینج کے پہلے دو سال میں یہی ترقی منفی میں چلی گئی، اور چار سال بعد تین فیصد تک پہنچی ہے، لیکن بغضِ عمران میں مبتلا شخص کورونا کے باوجود 6.1 فیصد عمرانی ترقی کے بجائے رجیم چینج کی منفی ترقی پر تالیاں بجاۓ اور عمران خان کی ترقی پر چیخیں مارے، اسے بغضِ عمران کہتے ہیں

مثالیں اور بھی بہت ہیں، بس یاد رکھیں کہ بغضِ عمران میں مبتلا شخص کی زندگی اور قسمت میں صرف ذلت ہے، رُسوائ ہے، خواری ہے،

زبانِ خلق کو نقارہ خُدا سمجھو
تحریر: احمد جواد

شیئر کریں

تازہ ترین خبریں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top