نواز شریف کی سیاست: عوامی جدوجہد یا اقتدار کے درباروں کی دہلیز؟

نواز شریف کی سیاست کی بنیاد عوامی جدوجہد سے زیادہ اقتدار کے درباروں کی دہلیزوں پر رکھی گئی ہے کہا جاتا ہے کہ اُن کی سیاسی اُٹھان جنرل جیلانی کے بوٹوں کے تسموں سے شروع ہوئی، اور پھر وقت کے ساتھ یہی تسمے اس خاندان کی سیاست کا اوڑھنا بچھونا بنتے چلے گئے۔ اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کے لیے انہوں نے نظریات سے زیادہ وفاداری کے برش اور مصلحت کی چیری بلاسم پر بھروسا کیا۔

2024 کے انتخابات میں تو منظر کچھ یوں تھا جیسے جاتی اُمرا کے دروازوں پر لمبے بوٹ بطورِ سیاسی قبلہ لٹکا دیے گئے ہوں، اور اقتدار تک رسائی انہی تسموں سے لپٹ کر ممکن ہوئی۔ اس خاندان کے سیاسی کرداروں کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اُن کے ہاتھوں میں ہمیشہ ایک برش اور پالش کی ڈبیا موجود رہتی ہے جہاں طاقت کے بوٹ نظر آئیں، وہاں عقیدت مندی سے جھک جانا اُن کی سیاسی جبلّت بن چکی ہے۔

عوام سے اُن کا رشتہ اب باقی نہیں رہا اگر واقعی عوام کے دکھ درد سے کوئی قلبی تعلق باقی ہوتا تو مہنگائی کے اس طوفان میں پٹرول کی قیمتوں کو عوام کی سانسوں پر بوجھ نہ بنایا جاتا۔ مگر شاید انہیں یقین ہو چکا ہے کہ عوامی مقبولیت کی زمین اُن کے قدموں تلے سے سرک چکی ہے، اس لیے اب اُن کی سیاست ووٹ کی طاقت سے زیادہ طاقتور حلقوں کی عنایت کی مرہونِ منت ہے۔

اقتدار کے ایوانوں میں وفاداری کا معیار صرف یہ رہ گیا ہے کہ کون بوٹوں پر زیادہ چمکدار پالش کر سکتا ہے۔

تحریر: بشارت راجہ

شیئر کریں

تازہ ترین خبریں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top