پاکستان

پنجاب میں توانائی کا بڑا بحران: بجلی کا شارٹ فال اور گیس کی بدترین قلت، عوام کی مشکلات میں اضافہ

توانائی کے بحران کی سنگینی: لیسکو کا شارٹ فال 850 میگاواٹ سے متجاوز

پاکستان کے بڑے شہروں خصوصاً لاہور اور گردونواح میں بجلی کی طلب اور رسد کا فرق خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ لیسکو (LESCO) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، بجلی کا شارٹ فال 850 میگاواٹ کی حد عبور کر چکا ہے۔ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈیسپیچ کمپنی (NTDC) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ لیسکو اس وقت اپنی 2700 میگاواٹ کی مجموعی طلب کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہا ہے، جس کے نتیجے میں پاور سسٹم پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور عوامی پریشانی

بجلی کی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے لیسکو کی جانب سے مختلف علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

  • شہری علاقے: شہروں میں روزانہ اوسطاً 2 گھنٹے یا اس سے زائد کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔
  • دیہی علاقے: مضافاتی اور دیہی علاقوں میں صورتحال مزید ابتر ہے، جہاں 4 سے 6 گھنٹے تک بجلی بند رکھی جا رہی ہے۔

شدید گرمی اور حبس کے موسم میں اس غیر اعلانیہ بندش نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ حکام کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر طلب میں مزید اضافہ ہوا تو لوڈشیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔

بلوکی پاور پلانٹ کی بندش اور پیداوار میں کمی

بجلی کے اس حالیہ بحران کی ایک بڑی وجہ بلوکی پاور پلانٹ کا اچانک بند ہونا ہے۔ ذرائع کے مطابق، آر ایل این جی (RLNG) گیس کی عدم فراہمی کے باعث اس اہم پاور پلانٹ سے بجلی کی پیداوار معطل ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ بلوکی پاور پلانٹ قومی گرڈ میں 1223 میگاواٹ بجلی فراہم کرنے والا ایک بڑا ذریعہ تھا، جس کی بندش نے بجلی کی کمی کو شدید تر کر دیا ہے۔

سوئی ناردرن گیس کا نیا شیڈول: دن میں صرف 6 گھنٹے سپلائی

بجلی کے ساتھ ساتھ گیس کا بحران بھی شدت اختیار کر چکا ہے۔ سوئی ناردرن گیس کمپنی نے صارفین کے لیے گیس کی فراہمی کا انتہائی محدود شیڈول جاری کیا ہے، جس کے مطابق:

  • صارفین کو 24 گھنٹوں میں سے مجموعی طور پر صرف 6 گھنٹے گیس فراہم کی جائے گی۔
  • کمپنی کے مطابق، یہ سپلائی دن میں صرف دو وقت (صبح اور شام) کے کھانے کے اوقات میں دستیاب ہوگی۔

مہنگی ایل پی جی کا استعمال اور گھریلو بجٹ پر اثرات

درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی گیس پریشر میں کمی اور طویل بندش نے شہریوں کو ایل پی جی (LPG) جیسے مہنگے متبادل ذرائع استعمال کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے اور گیس کی قلت نے عام آدمی کے کچن کا بجٹ بری طرح متاثر کیا ہے، جس سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

مستقبل کی صورتحال اور ممکنہ حل

توانائی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک آر ایل این جی کی سپلائی بحال نہیں ہوتی اور پاور پلانٹس کو مکمل ایندھن فراہم نہیں کیا جاتا، تب تک بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ میں خاطر خواہ کمی کے امکانات معدوم ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے تاکہ عوام کو اس دہری اذیت سے نجات دلائی جا سکے۔

مزید اہم خبریں:۔

شیئر کریں
Admin 2

Recent Posts

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، ایران امریکا مذاکرات میں ڈیڈ لاک اور پاکستان کا سیاسی منظرنامہ

ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں تعطل حالیہ سفارتی کوششوں کے باوجود، ایران اور…

9 hours ago

پی ٹی آئی میں تنظیمی تبدیلیاں: سلمان اکرم راجہ کا سیکرٹری جنرل کے عہدے سے استعفے کا فیصلہ

پی ٹی آئی میں تنظیمی تبدیلیاں: سلمان اکرم راجہ کا سیکرٹری جنرل کے عہدے سے…

13 hours ago

عمران خان کی قید اور صحت کے حوالے سے تشویشناک انکشافات

عمران خان کی قید اور صحت کے حوالے سے تشویشناک انکشافات تعارف پاکستان کی حالیہ…

13 hours ago

ایران امریکہ مذاکرات میں پیشرفت، مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال اور پاکستان کا اندرونی و خارجی سیاسی بحران

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں اہم پیشرفت مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک…

15 hours ago

حکومتی ادارے سوئی ناردرن اور سدرن نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تیار کرلی، درخواستیں جمع

🚨 حکومتی ادارے سوئی ناردرن اور سدرن نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تیار…

19 hours ago

معروف قاری سید صداقت علی پر مبینہ تشدد کا انکشاف: مکمل تفصیلات

معروف قاری سید صداقت علی پر مبینہ تشدد کا انکشاف معروف قاری سید صداقت علی…

21 hours ago

This website uses cookies.