🚨 حکومتی ادارے سوئی ناردرن اور سدرن نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تیار کرلی، درخواستیں جمع
سوئی سدرن نے گیس کی اوسط قیمت میں 5306 روپے اور سوئی ناردرن نے 29 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ مانگا ہے۔ سوئی ناردرن اور سدرن کی درخواستوں میں آئندہ مالی سال سمیت سابقہ شارٹ فال کی مد میں مجموعی طور پر 1650 ارب روپے کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔
گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تفصیلات
اوگرا (OGRA) کو موصول ہونے والی درخواستوں کے مطابق، سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) نے مالی سال 26-2025 کے لیے گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی استدعا کی ہے۔ کمپنی نے اپنی ریونیو ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 5306 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے بعد گیس کی نئی اوسط قیمت 7114 روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب، سوئی ناردرن گیس کمپنی (SNGPL) نے نسبتاً کم یعنی 29 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کی درخواست کی ہے، جس سے ان کی مجوزہ نئی قیمت 1707 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہو جائے گی۔
۔1650 ارب روپے کا بھاری شارٹ فال
ان درخواستوں میں سب سے تشویشناک پہلو 1650 ارب روپے کا مجموعی تخمینہ ہے، جو کہ درج ذیل مدات میں مانگا گیا ہے:
- آئندہ مالی سال کی ریونیو ضروریات۔
- سابقہ سالوں کا بقایا شارٹ فال۔
- گیس کے گردشی قرضوں (Circular Debt) میں کمی لانے کے اقدامات۔
عوام پر اثرات اور اوگرا کا فیصلہ
اگر اوگرا ان درخواستوں کو منظور کر لیتا ہے، تو اس کا براہ راست اثر گھریلو صارفین، کمرشل سیکٹر اور صنعتی یونٹس پر پڑے گا۔ مہنگائی کے اس دور میں گیس کی قیمتوں میں یہ اضافہ عام آدمی کی جیب پر ایک بڑا بوجھ ثابت ہوگا۔ اوگرا ان درخواستوں پر عوامی سماعت کے بعد اپنا حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کو بھجوائے گا، جس کے بعد نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے متوقع ہے۔
مزید اہم خبریں :۔
- مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، ایران امریکا مذاکرات میں ڈیڈ لاک اور پاکستان کا سیاسی منظرنامہ
- پی ٹی آئی میں تنظیمی تبدیلیاں: سلمان اکرم راجہ کا سیکرٹری جنرل کے عہدے سے استعفے کا فیصلہ
- عمران خان کی قید اور صحت کے حوالے سے تشویشناک انکشافات
- ایران امریکہ مذاکرات میں پیشرفت، مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال اور پاکستان کا اندرونی و خارجی سیاسی بحران
- حکومتی ادارے سوئی ناردرن اور سدرن نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تیار کرلی، درخواستیں جمع



