مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک انتہائی اہم موڑ آ گیا ہے جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ ان مذاکرات میں پاسداران انقلاب کے جنرل احمد وحیدی کا کردار نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کے فیلڈ مارشل نے تہران کا انتہائی اہم دورہ کیا ہے، جس میں ایران کے سپریم لیڈر اور جنرل وحیدی سمیت دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتیں کی گئی ہیں۔ اہم ترین پیشرفت یہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کو اس معاملے میں اپنا واحد ثالث قرار دیا گیا ہے۔ اس دورے کے دوران اسحاق ڈار کے بجائے وفاقی وزیر محسن نقوی کا فیلڈ مارشل کے ہمراہ جانا سیاسی حلقوں میں ایک دلچسپ صورتحال پیدا کر رہا ہے۔
عالمی سطح پر ایران کو کئی پرکشش پیشکشیں کی جا رہی ہیں، جن میں گزشتہ 50 سال سے عائد پابندیاں ختم کرنے اور 100 ارب ڈالر کے اثاثے واپس کرنے کی آفرز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے ایران کی تعمیر نو میں تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔ جواب میں ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو امریکہ کے حوالے کرنے کے بجائے روس یا پاکستان کے پاس بطور امانت رکھوانے پر غور کر رہا ہے۔ دوسری جانب، امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی تیل کی ترسیل روکنے کے لیے اپنے بحری جہاز تعینات کر کے ناکہ بندی کی کوشش کی تھی، تاہم ایران نے بحیرہ کیسپین اور بحیرہ عمان سے نئی پائپ لائنز کے ذریعے روس کے نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے اپنا تیل چین، یورپ اور دیگر ممالک تک کامیابی سے پہنچا کر امریکی حکمت عملی کو ناکام بنا دیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان سے دو گھنٹے سے زائد طویل ملاقات ہوئی ہے۔ عرب ممالک، خاص طور پر خلیجی ریاستوں کا بنیادی زور اس بات پر ہے کہ آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے کسی بھی طرح کھلا رکھا جائے۔ اسی تناظر میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی معاشی معاونت اور خطیر رقم فراہم کرنے کے اشارے ملے ہیں۔ تاہم دوسری جانب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پاکستان سے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ویزا لسٹ سے باہر کر دیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان حالات مزید گھمبیر ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی منظر نامے پر ایک اور اہم واقعہ یہ ہے کہ 34 سال بعد پہلی بار لبنان اور اسرائیلی رہنماؤں کے درمیان امریکہ میں ملاقات کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ اس دوران ایرانی سپیکر کی جانب سے لبنان کے حوالے سے ایک سخت موقف بھی سامنے آیا ہے۔ دوسری جانب خود اسرائیل کے اندرونی حالات انتہائی دگرگوں ہیں؛ مختلف شہروں میں پہلے کوؤں اور اب مکھیوں کے حملوں نے تباہی مچا رکھی ہے جس کی وجہ سے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
پاکستان کی داخلی سیاست بھی شدید کشمکش کا شکار ہے۔ اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حوالے سے یہ خبریں زیر گردش ہیں کہ کیا کوئی امریکی وفد ان سے ملنے جیل گیا ہے یا ان کی مذاکرات پر کوئی بریفنگ لی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں اسلام آباد میں غیر ملکی وفود اور مذاکرات کے پیش نظر سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے، اور سرینا ہوٹل کے اطراف میں انتظامات مکمل کر کے شہر میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن جیسی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے۔
ملکی تاریخ کی بدترین کارکردگی کے باعث معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ عوام کو کنگال کر دیا گیا ہے اور بدترین مہنگائی کے ساتھ ساتھ طویل لوڈ شیڈنگ نے جینا حرام کر دیا ہے۔ دوسری جانب آئی پی پیز (انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کی مد میں اشرافیہ اور حکومتی شخصیات (جن میں مبینہ طور پر اسحاق ڈار اور دیگر کی کمپنیاں شامل ہیں) کو 16 فیصد منافع فراہم کیا جا رہا ہے، جس کا سارا بوجھ بجلی کے بلوں کی صورت میں غریب عوام کی جیبوں سے نکالا جا رہا ہے۔
ملک میں جبر اور ظلم کا ایک نیا سلسلہ جاری ہے جہاں سچ بولنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پی ٹی وی پر گزشتہ 40 سال تک قرآن پاک کی تعلیم دینے والے معروف قاری سید صداقت علی پر ریاستی اداروں کی مبینہ کرپشن پر آواز اٹھانے کی پاداش میں شدید تشدد کیا گیا، جس میں ان کی پسلیاں تک ٹوٹ گئیں۔ اسی طرح صحافی جمیل فاروقی پر قاتلانہ حملہ ہوا اور صحافی جویریہ صدیق سمیت دیگر کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک کے موجودہ اندرونی حالات بالکل مشہور فلم “ہاؤس آف صدام” کی طرح ہیں، جہاں دنیا کے سامنے تو سب کچھ ٹھیک دکھایا جاتا ہے، لیکن اندرونی طور پر عوام پر ظلم اور جبر مسلط ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں تعطل حالیہ سفارتی کوششوں کے باوجود، ایران اور…
پی ٹی آئی میں تنظیمی تبدیلیاں: سلمان اکرم راجہ کا سیکرٹری جنرل کے عہدے سے…
عمران خان کی قید اور صحت کے حوالے سے تشویشناک انکشافات تعارف پاکستان کی حالیہ…
🚨 حکومتی ادارے سوئی ناردرن اور سدرن نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تیار…
معروف قاری سید صداقت علی پر مبینہ تشدد کا انکشاف معروف قاری سید صداقت علی…
کینیڈا کے وزیراعظم نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پٹرول…
This website uses cookies.