حالیہ سفارتی کوششوں کے باوجود، ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں واضح ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا ہے۔ ایران نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ جب تک امریکا اپنے سابقہ معاہدوں پر مکمل عمل درآمد نہیں کرتا، اس وقت تک کسی بھی قسم کی بات چیت نہیں ہوگی۔ ایران کا دو ٹوک موقف ہے کہ امریکا پہلے تمام معاشی پابندیاں ختم کرے، منجمد اثاثے بحال کرے، اور جنگی نقصانات کا ہرجانہ ادا کرے۔ اس کے علاوہ، آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی ختم کی جائے اور امریکی افواج اپنی پرانی پوزیشنز پر واپس جائیں۔ ان بنیادی شرائط کی تکمیل کے بعد ہی نیوکلیئر سائٹس تک بین الاقوامی انسپکٹرز کی رسائی اور دیگر امور پر بات چیت ممکن ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں حالات اس وقت مزید سنگین ہو گئے جب امریکا نے خطے میں وسیع پیمانے پر مزید 10 ہزار فوجی بھیجنے کا سلسلہ شروع کر دیا، جو پہلے سے موجود 50 ہزار فوجیوں کے دستے میں شامل ہوں گے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ امریکی انتظامیہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متضاد اور بوکھلاہٹ پر مبنی بیانات سامنے آ رہے ہیں، جس سے خطے میں ایک بڑی جنگ کے بادل منڈلاتے دکھائی دے رہے ہیں۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ لبنانی وزیراعظم نے اسرائیلی قیادت کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت اور سیز فائر مذاکرات سے قطعی انکار کر دیا ہے۔ اس انکار کی بڑی وجہ اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی کے پل کو تباہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے شہروں کا آپس میں رابطہ کٹ گیا ہے اور تقریباً 12 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 2200 سے زائد لبنانی شہری شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد میں بچے، خواتین اور طبی امداد فراہم کرنے والا عملہ بھی شامل ہے۔
خطے کی اس تیزی سے بدلتی ہوئی کشیدہ صورتحال کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کے اہم دورے کے بعد اب قطر پہنچ چکے ہیں، جہاں ان کی قطری امیر اور اعلیٰ حکومتی قیادت سے اہم ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ ان دوروں کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور دو طرفہ معاشی تعاون پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
پاکستان کے داخلی سیاسی منظرنامے میں بھی تشویشناک خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ اڈیالہ جیل میں قید سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی صحت کے حوالے سے صورتحال انتہائی خراب بتائی جا رہی ہے۔ طبیعت کی شدید ناسازی کے باوجود حکام کی جانب سے انہیں ہسپتال منتقل کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے، جو کہ ایک قابلِ تشویش عمل ہے۔
دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کو اس وقت ایک واضح اور ٹھوس حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت عوام کا واحد اور سب سے بڑا مطالبہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی ہے۔ سیاسی لائحہ عمل کے تحت پی ٹی آئی قیادت کو چاہیے کہ وہ علیمہ خان اور دیگر اتحادیوں کو ساتھ ملا کر عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر سطح پر ایک منظم مہم کا آغاز کرے۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں عوام کا اعتماد صرف اسی صورت بحال کیا جا سکتا ہے جب پوری قیادت ایک واضح ایجنڈے پر متحد ہو کر عوام کی امنگوں کے مطابق فیصلہ کن جدوجہد کرے۔
پی ٹی آئی میں تنظیمی تبدیلیاں: سلمان اکرم راجہ کا سیکرٹری جنرل کے عہدے سے…
عمران خان کی قید اور صحت کے حوالے سے تشویشناک انکشافات تعارف پاکستان کی حالیہ…
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں اہم پیشرفت مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک…
🚨 حکومتی ادارے سوئی ناردرن اور سدرن نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تیار…
معروف قاری سید صداقت علی پر مبینہ تشدد کا انکشاف معروف قاری سید صداقت علی…
کینیڈا کے وزیراعظم نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پٹرول…
This website uses cookies.