لوڈ شیڈنگ

حکومت کی نااہلی یا ‘پیک آورز ریلیف’؟ 46 ہزار میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے باوجود بدترین لوڈشیڈنگ

حکومت کی نااہلی یا ‘پیک آورز ریلیف’؟ 46 ہزار میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے باوجود بدترین لوڈشیڈنگ پر پی ٹی آئی کی شدید تنقید

تعارف

پاکستان میں موسم گرما کی دستک کے ساتھ ہی توانائی کا بحران ایک بار پھر سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ ملک کے طول و عرض میں جاری بدترین لوڈشیڈنگ نے نہ صرف عوامی زندگی کو اجیرن کر دیا ہے بلکہ معیشت کے پہیے کو بھی جام کر کے رکھ دیا ہے۔ اس بحران کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی کل نصب شدہ صلاحیت (Installed Capacity) تقریباً 46 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ ملک میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب 30 ہزار میگاواٹ کے لگ بھگ رہتی ہے۔ اس واضح فرق کے باوجود عوام کو 8 سے 12 گھنٹے بجلی کی فراہمی سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ اس صورتحال پر پاکستان تحریک انصاف (PTI) نے سخت ردعمل دیتے ہوئے موجودہ حکومت کی معاشی اور انتظامی پالیسیوں کو “مجرمانہ غفلت” قرار دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے بجلی کی بچت کے نام پر متعارف کروائی گئی ‘پیک آورز ریلیف’ جیسی اصطلاحات کو پی ٹی آئی نے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے برابر قرار دیا ہے۔

پس منظر

پاکستان کے شعبہ توانائی کا بحران کوئی نیا نہیں ہے، لیکن پچھلے چند سالوں میں اس میں آنے والی شدت تشویشناک ہے۔ ماضی میں لگائے گئے مہنگے ترین آئی پی پیز (IPPs) کے منصوبوں نے ملک کو ‘کیپیسٹی پیمنٹس’ (Capacity Payments) کے اس چنگل میں پھنسا دیا ہے جہاں بجلی پیدا کی جائے یا نہ کی جائے، حکومت کو اربوں روپے ان کمپنیوں کو ادا کرنے پڑتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں ان معاہدوں پر نظرثانی کی کوششیں کی گئی تھیں، لیکن موجودہ سیٹ اپ میں یہ معاملہ مزید الجھ گیا ہے۔

آج صورتحال یہ ہے کہ حکومت کے پاس بجلی پیدا کرنے کے لیے کارخانے تو موجود ہیں، لیکن ان کو چلانے کے لیے ایندھن خریدنے کے پیسے نہیں ہیں۔ ملک کے گردشی قرضے (Circular Debt) کا حجم 2500 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جس کی بنیادی وجہ لائن لاسز، بجلی چوری اور انتظامی نااہلی ہے۔ حکومت اپنی نااہلی کا بوجھ غریب عوام پر مہنگے ٹیرف اور بدترین لوڈشیڈنگ کی صورت میں ڈال رہی ہے۔

حالیہ صورتحال

حالیہ ہفتوں میں لاہور، کراچی، اسلام آباد اور بالخصوص دیہی علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حکومت نے ‘پیک آورز’ کے دوران بجلی کے استعمال کو کم کرنے کے لیے جو نئی پالیسیاں متعارف کروائی ہیں، پی ٹی آئی نے انہیں ‘عوامی دشمنی’ قرار دیا ہے۔ پی ٹی آئی قیادت کا مؤقف ہے کہ جب ملک میں ضرورت سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، تو عوام کو ‘پیک آورز’ کے نام پر سزا کیوں دی جا رہی ہے؟

بجلی کی قیمتیں اس وقت تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں، جہاں فی یونٹ قیمت بشمول ٹیکسز 60 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ ایک طرف عوام کو مہنگی بجلی کے بل بھیجے جا رہے ہیں اور دوسری طرف انہیں وہ بجلی میسر ہی نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف (IMF) کی شرائط پوری کرنے کے چکر میں عوام کا خون نچوڑ رہی ہے، جبکہ انتظامی سطح پر لائن لاسز روکنے یا ریکوری بہتر بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

تجزیہ / عوامی اثرات

اس توانائی بحران کے اثرات صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس نے صنعتی شعبے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ٹیکسٹائل اور دیگر برآمدی صنعتیں بجلی کی عدم فراہمی اور مہنگے ٹیرف کی وجہ سے بند ہو رہی ہیں، جس سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں۔ جب صنعت چلے گی نہیں، تو ملک کی برآمدات کیسے بڑھیں گی اور ڈالر کیسے آئے گا؟

عوامی سطح پر اس کے اثرات نفسیاتی اور سماجی بحران کی صورت میں نکل رہے ہیں۔ شدید گرمی میں گھنٹوں بجلی کی بندش سے ہسپتالوں میں مریضوں کی حالت زار اور طلبہ کی تعلیم کا حرج ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی کا یہ تجزیہ درست معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس اس بحران کا کوئی قلیل مدتی یا طویل مدتی حل موجود نہیں ہے۔ حکومت صرف ‘ایڈہاک ازم’ پر چل رہی ہے، جہاں ایک سوراخ بند کرنے کے لیے دوسرا سوراخ کیا جاتا ہے۔

سیاسی طور پر دیکھا جائے تو یہ بحران موجودہ حکومت کے خلاف عوامی غم و غصے میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ عوام یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ اگر بانی پی ٹی آئی کے دور میں بجلی وافر تھی اور قیمتیں کنٹرول میں تھیں، تو آج 46 ہزار میگاواٹ ہونے کے باوجود اندھیرا کیوں ہے؟ یہ براہِ راست بیڈ گورننس اور اس سیاسی عدم استحکام کا نتیجہ ہے جو فروری کے انتخابات کے بعد پیدا ہوا ہے۔

نتیجہ

پاکستان کا توانائی کا بحران درحقیقت ایک گورننس کا بحران ہے۔ محض 46 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت کا ہونا کافی نہیں جب تک اسے عوام تک پہنچانے کے لیے موثر ٹرانسمیشن لائنز اور سستی بجلی پیدا کرنے کی نیت موجود نہ ہو۔ حکومت کی ‘پیک آورز ریلیف’ جیسی اصطلاحات دراصل اپنی ناکامی چھپانے کا ایک بہانہ ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کا یہ مطالبہ کہ شفاف تحقیقات کے ذریعے آئی پی پیز کے معاہدوں اور گردشی قرضے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان اس وقت تک معاشی طور پر مستحکم نہیں ہو سکتا جب تک اسے سستی اور مسلسل توانائی میسر نہ ہو۔ موجودہ حکمرانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ اشتہارات اور کاغذی دعووں سے عوام کے گھروں میں روشنی نہیں لا سکتے۔ اس کے لیے ٹھوس پالیسی، سیاسی استحکام اور سب سے بڑھ کر عوامی مینڈیٹ کی حامل ایک مضبوط حکومت کی ضرورت ہے جو کڑے فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ورنہ یہ اندھیرے نہ صرف معیشت کو نگل جائیں گے بلکہ سیاسی ڈھانچے کو بھی لے ڈوبیں گے۔

مزید اہم خبریں :۔

شیئر کریں
Admin 2

Recent Posts

ایران امریکہ معاہدہ، عالمی معیشت میں بڑی تبدیلیاں اور پاکستانی سیاست پر اثرات

ایران کی بڑی سفارتی کامیابی اور آبنائے ہرمز کی بحالی حالیہ بین الاقوامی مذاکرات کے…

12 hours ago

بشریٰ بی بی کی رہائی کے لیے کوششیں تیز: بیرسٹر گوہر کی بانی پی ٹی آئی کی فیملی کو بریفنگ

بشریٰ بی بی کی رہائی کے لیے کوششیں تیز: بیرسٹر گوہر کی بانی پی ٹی…

16 hours ago

ایران امریکہ کشیدگی، چینی اسلحے کی فراہمی اور پاکستان کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال

چین کی ایران کو خفیہ عسکری امداد حال ہی میں چین کے چار بڑے کارگو…

19 hours ago

عمران خان اور پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ سیاسی انتقام: سینیٹر مشتاق احمد خان کا شدید تشویش کا اظہار

عمران خان کو صحت کے حقیقی مسائل ہیں، ان کی اہلیہ کا بھی صحت کے…

19 hours ago

پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل کا دوبارہ استعفے کا اعلان: اندرونی اختلافات یا سخت تنقید کا نتیجہ؟

پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل کا دوبارہ استعفے کا اعلان: اندرونی اختلافات یا سخت تنقید…

23 hours ago

This website uses cookies.