حال ہی میں چین کے چار بڑے کارگو جہاز ایران پہنچے ہیں جو کہ بھاری عسکری ساز و سامان، ریڈار سسٹم، لاجسٹکس اور میزائل ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان جہازوں نے اپنی نقل و حرکت کو خفیہ رکھنے کے لیے ٹرانسپونڈر سگنلز مکمل طور پر بند رکھے ہوئے تھے اور ایران کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل یہ فلائٹ ٹریکنگ سے غائب ہو گئے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے، مذاکرات ناکام ہونے کا خطرہ ہے اور امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی طاقت کو تین گنا بڑھانے کے دعوے کر رہا ہے۔
ایران کی جانب سے اپنے ایٹمی سائنسدانوں کی شہادتوں کا بدلہ لینے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ کے بڑے سپیس انجینئرز اور 10 اہم سائنسدانوں کی ہلاکتوں یا گمشدگی کو ایران کے انتقام اور طاقت کے ایک بڑے ثبوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
موجودہ عالمی حالات نے امریکی قیادت بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ نومبر میں ہونے والے امریکی انتخابات اور مواخذے کے خطرات کے باعث ٹرمپ کو ایک ایسا بیانیہ چاہیے جو ان کی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دے سکے۔ اسی مجبوری کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں اور ٹرمپ کا دورہ پاکستان بھی متوقع تھا جس میں فی الحال تاخیر ہو رہی ہے۔ دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر نے واضح وارننگ دے دی ہے کہ جب تک کوئی حتمی امن معاہدہ نہیں ہوتا، ایران آبنائے ہرمز کا کنٹرول نہیں چھوڑے گا۔
مشرقِ وسطیٰ کے محاذ پر ایک اہم پیش رفت لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ سیز فائر (جنگ بندی) کا معاہدہ ہے۔ اس معاہدے پر لبنان میں جشن کا سماں ہے اور ایران کی جانب سے بھی اس کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ تاہم اسرائیل کے اندر نیتن یاہو کو شدید عوامی تنقید اور احتساب کا سامنا ہے، جس سے ان کے سیاسی مستقبل اور اقتدار کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
امریکی وفد کی متوقع آمد اور فیس سیونگ کے تناظر میں اسلام آباد اور راولپنڈی میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور لاک ڈاؤن جیسی صورتحال ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو مکمل بند کیا جا رہا ہے تاکہ غیر ملکی شخصیات کو محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ اس وقت مذاکرات کے حوالے سے مختلف اعلیٰ پاکستانی شخصیات بھی بیرونِ ملک موجود ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کی 100 بااثر ترین شخصیات کی فہرست بھی جاری ہوئی ہے جس میں پاکستان کے کسی ‘فیلڈ مارشل’ کا نام شامل نہیں ہے۔
قومی اسمبلی سے ایک نیا اور متنازع قانون منظور کیا گیا ہے جس کے تحت 6 ہزار ایکڑ زمین پرائیویٹ ڈویلپرز کے نام پر عرب ممالک کو دی جائے گی۔ اس قانون کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس اراضی کی فروخت کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا، جو کہ ملک کے لیے ایک انتہائی تشویشناک امر ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی اندرونی صورتحال بھی بحران کا شکار ہے۔ بشریٰ بی بی کی حالت تشویشناک ہونے پر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا اور اہلِ خانہ کی اجازت کے بغیر ان کی آنکھ کی سرجری کر دی گئی۔ اس تمام تر ظلم پر پی ٹی آئی کی قیادت مکمل طور پر غائب ہے اور عمران خان کے بعد ان کی اہلیہ کو بھی اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والے آئندہ جلسوں میں عوام کی شرکت سے ہی پارٹی کی اصل مقبولیت اور مستقبل کا اندازہ ہو سکے گا۔
ملک کے صحت کے شعبے بالخصوص پنجاب کے ہسپتالوں کی حالت انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔ ادویات کی شدید قلت ہے اور ہسپتالوں میں استعمال شدہ سرنجوں کے ذریعے ایڈز جیسی مہلک بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ عوام کا 10 لاکھ روپے والا ہیلتھ کارڈ سسٹم مکمل تباہ ہو چکا ہے اور غریب عوام علاج کے لیے لمبی قطاروں میں خوار ہونے پر مجبور ہیں۔
ایران کی بڑی سفارتی کامیابی اور آبنائے ہرمز کی بحالی حالیہ بین الاقوامی مذاکرات کے…
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی اور پاکستانی ٹینکر کا عبور: کیا پاکستان کسی نئے…
بشریٰ بی بی کی رہائی کے لیے کوششیں تیز: بیرسٹر گوہر کی بانی پی ٹی…
عمران خان کو صحت کے حقیقی مسائل ہیں، ان کی اہلیہ کا بھی صحت کے…
حکومت کی نااہلی یا 'پیک آورز ریلیف'؟ 46 ہزار میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے باوجود بدترین…
پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل کا دوبارہ استعفے کا اعلان: اندرونی اختلافات یا سخت تنقید…
This website uses cookies.