پاکستان کا موجودہ سیاسی منظر نامہ شدید کشیدگی، محاذ آرائی اور بے یقینی کے بادلوں میں گھرا ہوا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک کو سنجیدہ معاشی فیصلوں اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، ریاستی مشینری کا زیادہ تر زور اپوزیشن بالخصوص پاکستان تحریک انصاف (PTI) کو دبانے پر صرف ہو رہا ہے۔ اس سیاسی محاذ آرائی کا ایک اہم ترین پہلو سابق خاتون اول اور بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ، بشریٰ بی بی کی مسلسل قید ہے۔ حالیہ پیش رفت میں، پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے قانونی کوششوں کو تیز کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی فیملی کو اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ہے۔ یہ ملاقات اور بریفنگ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ مسلسل ریاستی کریک ڈاؤن اور حکومتی دباؤ کے باوجود، پی ٹی آئی قیادت اپنے رہنماؤں کی قانونی اور آئینی آزادی کے لیے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
بشریٰ بی بی کی قید کو محض ایک قانونی معاملہ سمجھنا زمینی حقائق سے منہ چرانے کے مترادف ہے۔ 8 فروری کے عام انتخابات اور اس سے قبل کے سیاسی حالات پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو سیاسی منظر نامے سے ہٹانے اور ان کا مورال گرانے کے لیے ہر قسم کا حربہ استعمال کیا گیا۔ جب روایتی سیاسی اور قانونی دباؤ بانی پی ٹی آئی کے اعصاب توڑنے میں ناکام رہا، تو نشانہ ان کی فیملی کو بنایا گیا۔
بشریٰ بی بی پر بنائے گئے مقدمات—جن میں توشہ خانہ اور عدت کیس نمایاں ہیں—کو ملک کے نامور قانونی ماہرین اور آزاد مبصرین سیاسی انتقام اور اخلاقی گراوٹ کی بدترین مثال قرار دے چکے ہیں۔ ایک گھریلو اور مکمل طور پر غیر سیاسی خاتون کو محض سیاسی مخاصمت کی بنیاد پر پابندِ سلاسل کرنا، اس فرسودہ سیاسی نظام کی قلعی کھولتا ہے جہاں اقتدار کی طوالت کے لیے انسانی حقوق اور خاندانی اقدار کو بھی پامال کرنے سے گریز نہیں کیا جاتا۔
موجودہ صورتحال کے پیش نظر، پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم نے بشریٰ بی بی کی رہائی کے لیے عدالتوں میں ایک نئی اور بھرپور قانونی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ اور دیگر فیملی ممبران سے ملاقات کی اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ نچلی عدالتوں سے لے کر اعلیٰ عدلیہ تک، ہر قانونی فورم پر ان کی بے گناہی کے ٹھوس ثبوت پیش کیے جا رہے ہیں۔
تاہم، اس قانونی راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ خود موجودہ حکومت اور ریاستی ادارے ہیں۔ تاریخوں پر تاریخیں پڑنا، پراسیکیوشن کا تاخیری حربے استعمال کرنا، اور جیل ٹرائل کے نام پر انصاف کے شفاف عمل کو دھندلانا حکومت کی بوکھلاہٹ کی واضح نشانیاں ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ حکومت بشریٰ بی بی کی رہائی سے اس لیے خائف ہے کیونکہ یہ عدالتی فیصلہ بانی پی ٹی آئی کے حق بجانب ہونے کی ایک اور بڑی اخلاقی فتح ثابت ہوگا۔
اس تمام سیاسی اور قانونی کشمکش کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو حکومتی ترجیحات کا ایک بھیانک چہرہ سامنے آتا ہے۔ آج ایک عام پاکستانی بدترین لوڈشیڈنگ، 60 روپے فی یونٹ بجلی کے بلوں، اور ناقابلِ برداشت مہنگائی کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔ ملک کے پاس 46 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے مگر پھر بھی عوام اندھیرے میں ہیں۔ دوسری جانب، حکومت اپنی توانائیاں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے اپوزیشن رہنماؤں کو جیلوں میں رکھنے اور روزانہ کی بنیاد پر پریس کانفرنسز کے ذریعے بیانیہ بنانے پر ضائع کر رہی ہے۔
حکومت کی اس بیڈ گورننس اور سیاسی انتقام کی پالیسی نے عوام کے اندر پی ٹی آئی کے بیانیے کو مزید مقبول کر دیا ہے۔ پاکستانی عوام اس کھلے تضاد کو دیکھ رہے ہیں کہ معاشی استحکام کے بلند و بانگ دعوے محض اشتہارات تک محدود ہیں جبکہ حقیقی اقتدار کا زور صرف سیاسی قیدیوں پر چل رہا ہے۔ بشریٰ بی بی کی مسلسل قید نے پی ٹی آئی کے کارکنوں اور عام عوام کی ہمدردیوں میں بے پناہ اضافہ کیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جبر کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کو نہیں دبایا جا سکتا۔
لبِ لباب یہ ہے کہ بیرسٹر گوہر کی جانب سے فیملی کو دی گئی بریفنگ اور قانونی محاذ پر لائی گئی تیزی اس بات کا اعلان ہے کہ تحریک انصاف کا تنظیمی اور قانونی ڈھانچہ مکمل طور پر فعال ہے۔ حکومتِ وقت کو یہ تلخ حقیقت جتنی جلدی ہو سکے تسلیم کر لینی چاہیے کہ سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی میں بدل کر اور خواتین کو نشانہ بنا کر نہ تو حکومت کو اخلاقی جواز مل سکتا ہے اور نہ ہی بانی پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
پاکستان اس وقت ایک گہرے معاشی، توانائی اور گورننس کے بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اس بحران کا واحد حل انتقامی سیاست کا
خاتمہ، آئین کی بالادستی، اور عوام کے حقیقی مینڈیٹ کا احترام ہے۔ جب تک ملک میں انصاف کا بول بالا نہیں ہوتا اور بشریٰ بی بی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کر کے ایک سازگار جمہوری ماحول فراہم نہیں کیا جاتا، پاکستان کا سیاسی استحکام اور معاشی ترقی محض ایک سراب ہی رہے گی۔
ایران کی بڑی سفارتی کامیابی اور آبنائے ہرمز کی بحالی حالیہ بین الاقوامی مذاکرات کے…
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی اور پاکستانی ٹینکر کا عبور: کیا پاکستان کسی نئے…
چین کی ایران کو خفیہ عسکری امداد حال ہی میں چین کے چار بڑے کارگو…
عمران خان کو صحت کے حقیقی مسائل ہیں، ان کی اہلیہ کا بھی صحت کے…
حکومت کی نااہلی یا 'پیک آورز ریلیف'؟ 46 ہزار میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے باوجود بدترین…
پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل کا دوبارہ استعفے کا اعلان: اندرونی اختلافات یا سخت تنقید…
This website uses cookies.