امریکہ ایران جنگ

آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی اور پاکستانی ٹینکر کا عبور: کیا پاکستان کسی نئے عالمی معاشی و سیاسی بحران کی زد میں آنے والا ہے؟

آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی اور پاکستانی ٹینکر کا عبور: کیا پاکستان کسی نئے عالمی معاشی و سیاسی بحران کی زد میں آنے والا ہے؟

تعارف

مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ اور کشیدگی کے بادل گہرے ہو چکے ہیں اور اس بار عالمی معیشت کی شہ رگ سمجھے جانے والے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے 13 اپریل 2026 کو ایرانی بندرگاہوں کی سخت بحری ناکہ بندی (Naval Blockade) کے آغاز نے دنیا بھر میں تیل کی ترسیل اور معاشی استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان انتہائی کشیدہ حالات میں پاکستان کی قومی جہاز رانی کارپوریشن (PNSC) کے آئل ٹینکر ‘شالیمار’ (Shalamar) کا متحدہ عرب امارات سے 4 لاکھ 50 ہزار بیرل خام تیل لے کر اس ناکہ بندی سے بحفاظت گزرنا اگرچہ وقتی طور پر ایک خوش آئند خبر ہے، لیکن اس نے کئی سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ کیا ہماری موجودہ حکومت عالمی سطح پر ابھرنے والے اس نئے معاشی طوفان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، یا ہم ایک بار پھر بدترین مہنگائی اور سیاسی بحران کی زد میں آنے والے ہیں؟

پس منظر

فروری 2026 سے شروع ہونے والے امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازعے نے خطے کو شدید عدم استحکام کا شکار کر رکھا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد، امریکہ کی جانب سے سینٹ کام (CENTCOM) کی زیرِ نگرانی ایرانی بندرگاہوں اور آبنائے ہرمز کی جزوی ناکہ بندی کر دی گئی ہے، جس کے بعد اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد انتہائی کم رہ گئی ہے۔ واضح رہے کہ دنیا کے تیل کی کھپت کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔

دوسری جانب، پاکستان کی معیشت کا سارا دارومدار درآمدی تیل اور غیر ملکی قرضوں پر ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (PTI) اور ملک کے سنجیدہ معاشی ماہرین مسلسل یہ وارننگ دیتے رہے ہیں کہ جب تک ملک میں پیداواری صلاحیت نہیں بڑھائی جائے گی اور معاشی خود مختاری نہیں اپنائی جائے گی، پاکستان بیرونی جھٹکوں کو برداشت نہیں کر پائے گا۔ مگر بدقسمتی سے، اقتدار پر براجمان سیٹ اپ نے معاشی اصلاحات کے بجائے ‘کشکول کی معیشت’ اور آئی ایم ایف کے سہاروں کو ہی اپنی سب سے بڑی کامیابی سمجھ لیا ہے۔

حالیہ صورتحال

تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، امریکی بحریہ کی سخت وارننگ اور درجنوں جہازوں کو واپس بھیجے جانے کے باوجود، پاکستانی ٹینکر ‘شالیمار’ نے خلیج اومان کی جانب کامیابی سے سفر کیا ہے اور وہ کراچی پہنچنے والا ہے۔ حکومتی حلقے اس ایک جہاز کی آمد اور حالیہ سعودی فنڈز کو اپنی عظیم سفارتی کامیابی بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے سعودی عرب اور تہران کے درمیان شٹل ڈپلومیسی بھی کی جا رہی ہے۔

مگر ان کاغذی کامیابیوں کے پیچھے چھپی زمینی حقیقت انتہائی تلخ ہے۔ حکومتی دعوے ایک طرف، ملک کے اندر عوام کا جینا محال ہو چکا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا واضح خدشہ ہے، پاکستانی عوام پہلے ہی 60 روپے فی یونٹ بجلی اور بدترین لوڈشیڈنگ کا عذاب بھگت رہے ہیں۔ حکومت ایک جانب 46 ہزار میگاواٹ کی تنصیبی استعداد کا دعویٰ کرتی ہے، تو دوسری جانب عوام کو کئی کئی گھنٹے اندھیرے میں رکھ کر اپنی مجرمانہ غفلت کا ثبوت دے رہی ہے۔

تجزیہ / عوامی اثرات

اس تمام صورتحال کا بغور اور غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو حکومتی کمزوریاں اور بیڈ گورننس کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز کی یہ ناکہ بندی طویل ہو جاتی ہے (جس کے قوی امکانات ہیں)، تو بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی۔ کیا ایک ایسی حکومت جس کی بنیادیں عوامی مینڈیٹ پر نہ کھڑی ہوں، جو اندرونی سطح پر مکمل سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو، وہ اس عالمی معاشی جھٹکے کو عوام تک منتقل ہونے سے روک سکتی ہے؟

اس تناظر میں پی ٹی آئی کا یہ مؤقف انتہائی پختہ اور حقیقت پسندانہ معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ حکمران محض “ایڈہاک ازم” (Ad-hocism) پر ملک چلا رہے ہیں۔ وہ معیشت کی بحالی کے نام پر 2.5 ارب ڈالر کے نئے بیرونی قرضے تو لے رہے ہیں، لیکن عوام کو ریلیف دینے یا انرجی سیکٹر کے گردشی قرضوں کو ختم کرنے میں مکمل ناکام ہیں۔ حکومت کی تمام تر توانائیاں اور ریاستی مشینری کا زور بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو قید رکھنے، اور سیاسی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر خرچ ہو رہا ہے۔ جب عوام کے چولہے بجھ رہے ہوں اور انڈسٹری بند ہو رہی ہو، تو ایسی صورت میں عالمی طوفان کا مقابلہ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

نتیجہ

آبنائے ہرمز سے پاکستانی ٹینکر کا محفوظ عبور کوئی دیرپا معاشی ضمانت نہیں، بلکہ یہ اس بات کا الارم ہے کہ ہم ایک عالمی معاشی بارودی سرنگ کے کنارے کھڑے ہیں۔ خطے کا یہ بحران پاکستان کی معیشت کو تباہ کن حد تک متاثر کر سکتا ہے۔

پاکستان کو اس وقت ایک ایسی مضبوط، باشعور اور نمائندہ قیادت کی اشد ضرورت ہے جسے عوام کا حقیقی مینڈیٹ حاصل ہو۔ سیاسی انتقام کی آگ میں ملک کو جھونکنے اور جھوٹے اشتہاری دعووں سے نکل کر، ملک میں سیاسی استحکام لانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ بصورت دیگر، موجودہ حکومت کی انتظامی نااہلی اور بین الاقوامی توانائی بحران کا یہ گٹھ جوڑ پاکستان کے لیے ایک ایسا تباہ کن سونامی ثابت ہوگا جس کے اثرات دہائیوں تک ملکی معیشت کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔

مزید اہم خبریں :۔

شیئر کریں
Admin 2

Recent Posts

ایران امریکہ معاہدہ، عالمی معیشت میں بڑی تبدیلیاں اور پاکستانی سیاست پر اثرات

ایران کی بڑی سفارتی کامیابی اور آبنائے ہرمز کی بحالی حالیہ بین الاقوامی مذاکرات کے…

12 hours ago

بشریٰ بی بی کی رہائی کے لیے کوششیں تیز: بیرسٹر گوہر کی بانی پی ٹی آئی کی فیملی کو بریفنگ

بشریٰ بی بی کی رہائی کے لیے کوششیں تیز: بیرسٹر گوہر کی بانی پی ٹی…

16 hours ago

ایران امریکہ کشیدگی، چینی اسلحے کی فراہمی اور پاکستان کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال

چین کی ایران کو خفیہ عسکری امداد حال ہی میں چین کے چار بڑے کارگو…

19 hours ago

عمران خان اور پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ سیاسی انتقام: سینیٹر مشتاق احمد خان کا شدید تشویش کا اظہار

عمران خان کو صحت کے حقیقی مسائل ہیں، ان کی اہلیہ کا بھی صحت کے…

19 hours ago

حکومت کی نااہلی یا ‘پیک آورز ریلیف’؟ 46 ہزار میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے باوجود بدترین لوڈشیڈنگ

حکومت کی نااہلی یا 'پیک آورز ریلیف'؟ 46 ہزار میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے باوجود بدترین…

22 hours ago

پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل کا دوبارہ استعفے کا اعلان: اندرونی اختلافات یا سخت تنقید کا نتیجہ؟

پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل کا دوبارہ استعفے کا اعلان: اندرونی اختلافات یا سخت تنقید…

23 hours ago

This website uses cookies.