حالیہ بین الاقوامی مذاکرات کے بعد مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران نے اپنی سفارتی حکمت عملی کے تحت آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ اس فیصلے کا سب سے بڑا اثر عالمی معیشت پر پڑا ہے اور تیل کی قیمتیں نمایاں کمی کے بعد 83 ڈالر فی بیرل تک گر گئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے اور اپنے بیان میں اسے ‘آبنائے ایران’ کہہ کر ایران کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔
اس نئے معاہدے کے تحت ایران پر دہائیوں سے عائد پابندیاں ختم ہونے جا رہی ہیں۔ معاہدے کی رو سے ایران کے تقریباً 20 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے، جبکہ حالیہ کشیدگی سے ہونے والے 19 ارب ڈالر کے نقصان کا ازالہ بھی کیا جائے گا۔ ایران کی اس بڑی کامیابی کے بعد فرانس، سپین، برطانیہ، اٹلی اور جاپان جیسے ممالک نے ایران کے ساتھ تجارت شروع کرنے کے لیے بڑے تجارتی معاہدوں کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ مزید برآں، ایران نے عالمی نگرانی میں اپنے ایٹمی پروگرام کو پرامن مقاصد اور طبی ریسرچ تک محدود رکھنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
ایک جانب مشرق وسطیٰ کے حالات بہتر ہو رہے ہیں تو دوسری جانب ترکی کے شہر انطالیہ میں عالمی سیاست کے نئے محور بن رہے ہیں۔ ترکی کی قیادت میں قطر اور آذربائیجان کے رہنماؤں کی اہم ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ ترکی اب روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان بھی ثالثی کا کردار ادا کرنے جا رہا ہے اور پیوٹن، ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان ملاقات کی تیاریاں جاری ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی معیشت میں چین نے ایک بڑی خاموش حکمت عملی اپنائی ہے؛ دنیا کے 50 ممالک نے امریکی ڈالر کی بجائے چینی کرنسی میں تجارت کا آغاز کر دیا ہے جو کہ امریکی معیشت کے غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
ان تمام عالمی واقعات کے اثرات پاکستان کی داخلی سیاست پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ عالمی خبروں سے توجہ ہٹنے کے بعد اب پاکستانی سیاست میں تیزی آنے کا امکان ہے۔ اڈیالہ جیل میں اہم شخصیات کی ملاقاتوں اور مذاکرات کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جن میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی کے حوالے سے مختلف شخصیات متحرک ہو چکی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت پر اب دباؤ بڑھے گا کہ وہ موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں اپنی تحریک کا نیا لائحہ عمل واضح کرے۔ تاہم، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں زبردست کمی کے باوجود پاکستان میں عوام کو فوری ریلیف یا پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی ملنے کے امکانات کم نظر آتے ہیں، کیونکہ ملکی معاشی مسائل ابھی تک اپنی جگہ پر موجود ہیں۔
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی اور پاکستانی ٹینکر کا عبور: کیا پاکستان کسی نئے…
بشریٰ بی بی کی رہائی کے لیے کوششیں تیز: بیرسٹر گوہر کی بانی پی ٹی…
چین کی ایران کو خفیہ عسکری امداد حال ہی میں چین کے چار بڑے کارگو…
عمران خان کو صحت کے حقیقی مسائل ہیں، ان کی اہلیہ کا بھی صحت کے…
حکومت کی نااہلی یا 'پیک آورز ریلیف'؟ 46 ہزار میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے باوجود بدترین…
پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل کا دوبارہ استعفے کا اعلان: اندرونی اختلافات یا سخت تنقید…
This website uses cookies.