اس وقت مشرق وسطیٰ میں حالات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد، جنہوں نے مذاکرات کے عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی دھمکیوں کے جواب میں ایران نے واضح پیغام دیا ہے کہ امریکہ کو پہلے جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب ایرانی فورسز نے بغیر اجازت گزرنے والے ایک بحری جہاز ‘سانمار ہیرالڈ’ (Sanmar Herald) پر فائرنگ کی، جس کا نام مبینہ طور پر بدل کر انڈین کروز کے طور پر ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد آبنائے ہرمز میں شدید افرا تفری پھیل گئی اور ایران نے اس اہم بحری گزرگاہ کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ ایران نے وارننگ دی ہے کہ جب تک امریکی بحری جہاز وہاں سے مکمل طور پر نہیں نکلتے، ان کی نقل و حرکت پر سخت نگرانی رکھی جائے گی۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگ بندی (سیز فائر) محض چند گھنٹوں بعد ہی ختم ہو گئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بغیر مشاورت کے لبنان میں سیز فائر کے اعلانات کو اسرائیل کے اندر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسے اسرائیلی خود مختاری کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ٹرمپ کے اس مطالبے کو نظر انداز کر دیا ہے جس میں فوج نکالنے کا کہا گیا تھا۔ اسرائیل نے اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہیں جن میں اقوام متحدہ کے امن اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا اور ایمبولینسیں تباہ ہوئیں، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے شدید زخمی اور شہید ہونے کی اطلاعات ہیں۔
عالمی سفارتی محاذ پر بھی محاذ آرائی میں تیزی آئی ہے۔ ایران نے بحرین کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے اسرائیل کا ایجنٹ قرار دیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بیانات کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ دوسری جانب، بیلاروس کے صدر نے مغربی ممالک کے خلاف انتہائی سخت اور جارحانہ بیان دیا ہے اور ان کی پالیسیوں کے سامنے جھکنے سے دو ٹوک انکار کر دیا ہے۔
پاکستان کی داخلی سیاست میں بھی اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ بشریٰ بی بی کی طبیعت بگڑنے کے باعث ان کی ضمانت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کیس دائر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اڈیالہ جیل میں عمران خان کو اہم پیغامات پہنچائے گئے ہیں اور مبینہ طور پر چھ ماہ کی خاموشی اختیار کرنے کی ڈیل آفر کی گئی ہے۔ حکومتی سطح پر بھی بے یقینی کی کیفیت ہے؛ مذاکرات کی تیاریاں سرد مہری کا شکار ہیں، متضاد خبریں سامنے آ رہی ہیں اور وزیراعظم شہباز شریف اچانک اسلام آباد آنے کے بجائے لاہور میں ہی مقیم ہیں۔ مزید برآں، پاکستان سے دو اہم شخصیات دورہِ امریکہ پر روانہ ہوئی ہیں، جس سے سیاسی منظر نامے میں مزید قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔
موجودہ حالات میں عمران خان کی سیاسی اور سماجی حیثیت ایک فیصلہ کن موڑ پر ہے۔ وہ اس وقت اس مقام پر ہیں جہاں انسان محض اقتدار، دولت یا آسائش کے بجائے تاریخ رقم کرنا چاہتا ہے۔ ان کا موجودہ مقابلہ ایک ایسے سیٹ اپ سے ہے جو اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے طاقت، مقدمات اور خوف کا سہارا لیتا ہے۔ جب کہ دوسری جانب، عمران خان کو عوام کے دلوں میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہے۔ موجودہ حکومتی اور ریاستی حلقے عوامی ردعمل کے خوف میں مبتلا ہیں، کیونکہ عوام عمران خان کے حق میں باہر نکلنے اور ان کا تاریخی استقبال کرنے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔
ہمیں اچانک ایک پاکستانی unknown نمبر سے کال آئی جسے خوش قسمتی سے قاسم خان…
ایران اور امریکہ کشیدگی: آبنائے ہرمز کا دوبارہ محاصرہ تازہ ترین عالمی صورتحال کے مطابق…
کسانوں کا معاشی قتل؛ حکومتی پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج تعارف پاکستان کی معیشت…
2024 کے انتخابات پر کامن ویلتھ کی تہلکہ خیز رپورٹ جاری تعارف پاکستان کے عام…
ایران کی بڑی سفارتی کامیابی اور آبنائے ہرمز کی بحالی حالیہ بین الاقوامی مذاکرات کے…
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی اور پاکستانی ٹینکر کا عبور: کیا پاکستان کسی نئے…
This website uses cookies.