بین الاقوامی سیاست کے بساط پر پاکستان اس وقت ایک انتہائی اہم اور نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف اسلام آباد عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے مابین امن مذاکرات جیسی غیر معمولی سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں، تو دوسری جانب ملک کے اندر عوام معاشی بدحالی، ہوشربا مہنگائی اور توانائی کے سنگین بحران سے نبرد آزما ہیں۔ یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ جو ریاست خطے میں عالمی امن کے قیام کے لیے ‘پیس میکر’ (امن ساز) کا کردار ادا کر رہی ہے، وہ اپنے ہی شہریوں کو معاشی اور سماجی تحفظ فراہم کرنے میں مسلسل ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ ایک سینئر صحافی کی حیثیت سے جب ہم اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہیں، تو یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ کیا خارجہ پالیسی کی یہ کامیابیاں اندرونی ناکامیوں کا ازالہ کر سکتی ہیں؟
تاریخی اعتبار سے پاکستان نے ہمیشہ عالمی تنازعات میں ایک اسٹریٹجک کردار ادا کیا ہے۔ افغان جنگ سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک، اسلام آباد کا کردار کلیدی رہا ہے۔ تاہم، اس سفارتی اہمیت کا مالی یا معاشی فائدہ براہ راست عام آدمی تک کبھی نہیں پہنچ سکا۔ دہائیوں پر محیط ناقص معاشی پالیسیوں، سیاسی عدم استحکام اور عالمی مالیاتی اداروں (جیسے آئی ایم ایف) پر حد سے زیادہ انحصار نے ملکی معیشت کی بنیادیں کھوکھلی کر دی ہیں۔ ماضی کی حکومتوں کی طرح موجودہ سیٹ اپ بھی معاشی اصلاحات کے بجائے ہنگامی قرضوں اور دوست ممالک—جیسے سعودی عرب—سے ملنے والے عارضی ریلیف پیکجز پر انحصار کر رہا ہے۔ اس عارضی سہارے نے وقتی طور پر ڈیفالٹ کا خطرہ تو ٹال دیا ہے، لیکن معاشی خود مختاری کا خواب مزید دھندلا گیا ہے۔
موجودہ منظر نامے پر نظر ڈالیں تو حکومت سفارتی محاذ پر اپنی کامیابیوں کا کریڈٹ بجا طور پر لے رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی میں توسیع کے لیے پاکستان کا کردار بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ لیکن اس عالمی داد و تحسین کا شور اس وقت مدھم پڑ جاتا ہے جب ہم اندرونِ ملک زمینی حقائق کا سامنا کرتے ہیں۔ اس وقت عوام کو بدترین اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات ہیں، جس کا سیدھا بوجھ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں پاکستانی عوام پر ڈالا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر رہی ہے۔ اپوزیشن، بالخصوص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن، پابندیوں اور سیاسی مکالمے کے فقدان نے ایک ایسی غیر یقینی فضا پیدا کر دی ہے جس میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار اپنا سرمایہ لگانے سے گریزاں ہیں۔ جب ریاست کی تمام تر توانائیاں سیاسی مخالفین کو دبانے پر صرف ہوں گی، تو معاشی پالیسیوں کا تسلسل اور بہتری ناممکن ہو جاتی ہے۔
عوامی نقطہ نظر سے اس صورتحال کا تجزیہ کیا جائے تو حکومتی ترجیحات اور عوامی ضروریات کے درمیان ایک واضح خلیج نظر آتی ہے۔ عام شہری کو اس بات سے کوئی خاص غرض نہیں کہ اسلام آباد میں کن عالمی رہنماؤں کے درمیان کیا معاہدہ طے پا رہا ہے؛ اس کا اصل مسئلہ مہینے کے آخر میں آنے والا بجلی کا بھاری بل، اشیائے خورونوش کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں اور روزگار کا تحفظ ہے۔ جب حکومتیں عوامی فلاح کے بجائے محض ‘آپٹکس’ (optics) اور بین الاقوامی امیج بلڈنگ پر زور دیتی ہیں، تو عوام میں احساسِ محرومی اور غصہ جنم لیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی خوراک کے بحران کے حالیہ الرٹ نے اس تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ تنقیدی نگاہ سے دیکھا جائے تو حکومت کی موجودہ کارکردگی میں معاشی وژن کی شدید کمی دکھائی دیتی ہے۔ ایک مستحکم معیشت کے بغیر، کوئی بھی ملک طویل عرصے تک آزاد اور مؤثر خارجہ پالیسی نہیں چلا سکتا۔ سیاسی محاذ آرائی نے اس وقت ملکی معیشت کو یرغمال بنا رکھا ہے، اور اپوزیشن کو سیاسی دھارے سے باہر رکھنے کی ضد معاشی بحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
حرفِ آخر کے طور پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ عالمی امن کے لیے پاکستان کا کردار بلاشبہ قابلِ ستائش ہے اور یہ ہماری سفارتی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ تاہم، محض بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط ثالث نظر آنا کافی نہیں۔ حقیقی قومی سلامتی اور خودمختاری بندوقوں یا سفارتی میزوں سے نہیں، بلکہ ایک مضبوط اور مستحکم معیشت سے جنم لیتی ہے۔ حکومت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سیاسی انجینئرنگ اور مخالفین کو دیوار سے لگانے کی پالیسیاں معاشی استحکام نہیں لا سکتیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سفارتی محاذ کی کامیابیوں کا جشن منانے کے ساتھ ساتھ، فوری طور پر اندرونی سیاسی مفاہمت کی طرف قدم بڑھایا جائے اور ایک ایسا مشترکہ معاشی ایجنڈا تشکیل دیا جائے جو عام آدمی کو ریلیف فراہم کرے۔ بصورت دیگر، عالمی امن کی یہ کوششیں ایک ایسے گھر سے کی جانے والی اپیلیں لگیں گی جس کی اپنی بنیادیں معاشی زبوں حالی اور سیاسی انتشار کے باعث درک رہی ہوں۔
موجودہ عالمی صورتحال اور ایران امریکہ ٹکراؤ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ…
تاریخی سنگِ میل: چین کے خلائی مشن کے لیے 2 پاکستانی خلا نورد شارٹ لسٹ…
آئی ایم ایف کی 7 ارب ڈالر پیکیج کے لیے 11 نئی کڑی شرائط تعارف…
اسلام آباد میں غیر معینہ مدت کا لاک ڈاؤن: پاک-امریکا-ایران مذاکرات کے انتظار میں عوام…
ایران اور اسرائیل کشیدگی: بحری محاصرہ اور جوابی کارروائی مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی نے…
آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ایران کا 3 تجارتی جہازوں پر حملہ اور عالمی معیشت پر…
This website uses cookies.