عالمی سیاسی منظرنامہ: ایران کا اسرائیل کو بڑا سرپرائز، ٹرمپ کی مشکلات اور پاکستان کی داخلی صورتحال کا تجزیہ

ایران اور اسرائیل کشیدگی: بحری محاصرہ اور جوابی کارروائی

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ایران نے اسرائیل کے ایک بڑے بحری جہاز (جو کہ تقریباً 300 میٹر طویل ہے) کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ یہ کارروائی امریکہ کی جانب سے ایرانی جہاز کو قبضے میں لینے کے ردِعمل کے طور پر کی گئی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، اس جہاز کا تعلق ایک اسرائیلی پیرنٹ کمپنی سے ہے اور اس پر ہزاروں کارگو کنٹینرز لادے ہوئے تھے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک ان کی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی، وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

انٹرنیٹ کیبلز: عرب دنیا کی معیشت ایران کی مٹھی میں

ایران نے ابنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے بعد اب ایک اور حساس نکتے پر توجہ مرکوز کر لی ہے، جو کہ زیرِ سمندر بچھی ہوئی فائبر آپٹک کیبلز ہیں۔ خلیج فارس کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی یہ سات بڑی کیبلز ایشیا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کو جوڑتی ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت جیسے ممالک کی آن لائن بینکنگ، اسٹاک مارکیٹ اور مواصلاتی نظام کا دارومدار انہی کیبلز پر ہے۔ اگر ایران ان کیبلز کو نشانہ بناتا ہے تو پورے خطے کی معیشت اور کمیونیکیشن سسٹم مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔

امریکی انتظامیہ میں پھوٹ اور ٹرمپ کی بوکھلاہٹ

امریکہ کے داخلی حالات اس وقت شدید بحران کا شکار ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور پینٹاگون کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ خبروں کے مطابق، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے ٹرمپ کو ایٹمی ہتھیاروں کے کوڈز دینے سے انکار کر دیا ہے، جو کہ ٹرمپ کی ذہنی حالت پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی ایٹمی سائنسدانوں کی پراسرار ہلاکتوں کے پیچھے بھی ایرانی ہاتھ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نیٹو اتحاد میں بھی دراڑیں پڑ چکی ہیں اور ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں ان لوگوں کی فہرستیں تیار کر رہے ہیں جنہوں نے ان کی مخالفت کی تھی۔

اسرائیل کی سفارتی تنہائی اور یورپی ممالک کا ردِعمل

اسرائیل کے لیے عالمی سطح پر مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ بیلجیم، اسپین، آئرلینڈ اور سلووینیا سمیت چار اہم یورپی ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدے معطل کرنے اور سفارتی دباؤ بڑھانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ یہ صورتحال اسرائیل کے لیے بدترین سفارتی تنہائی کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہے، جہاں اس کے سابقہ اتحادی بھی اب اس کی پالیسیوں کے خلاف کھڑے نظر آتے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی صورتحال اور تحریکِ انصاف کی حکمتِ عملی

پاکستان کے حوالے سے آرٹیکل میں داخلی سیاست پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ تحریکِ انصاف کی قیادت، خاص طور پر علیمہ خان اور دیگر خواتین رہنماؤں سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے خیبر پختونخوا سے ایک منظم تحریک کا آغاز کریں گی۔ یہ تجویز دی گئی ہے کہ اگر خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ پرامن طور پر نکلیں تو حکومت اور انتظامیہ کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب، صدر مملکت آصف علی زرداری کی صحت کے حوالے سے بھی چہ مگوئیاں عروج پر ہیں، جس کے پیچھے سیاسی تبدیلیاں مقصود ہو سکتی ہیں۔

نتیجہ فکر

عالمی اور علاقائی حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ ایران نے میدانِ جنگ اور مذاکراتی میز، دونوں جگہ اپنی اہمیت منوائی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے لیے آنے والے دن مزید مشکل ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ پاکستان میں سیاسی استحکام کا دارومدار عوامی تحریک اور شفاف مذاکرات پر نظر آتا ہے۔

یوٹیوب پر مکمل ویڈیو دیکھنے کے لیے یہاں پر کلک کریں👇🏻

مزید اہم خبریں :۔

شیئر کریں
Scroll to Top