پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے، لیکن حالیہ دنوں میں واشنگٹن کے سیاسی گلیاروں، بالخصوص کیپٹل ہل پر ایک نئی اور تشویشناک ہلچل دیکھنے میں آئی ہے۔ بھارت نے اپنی سفارتی مہم کو تیز کرتے ہوئے امریکی قانون سازوں کے سامنے پاکستان مخالف بیانیے کو جارحانہ انداز میں پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان خود شدید اندرونی سیاسی اور معاشی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔ ایک سینئر صحافی اور نیوز اینالسٹ کی حیثیت سے، اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے، کیونکہ یہ صرف دو پڑوسی ممالک کی روایتی رقابت نہیں، بلکہ خطے میں سفارتی محاذ پر ایک نئی صف بندی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے، جس کے اثرات پاکستان کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی پر براہ راست مرتب ہوں گے۔
امریکہ میں بھارت کی لابی ہمیشہ سے مضبوط رہی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں، خاص طور پر مودی حکومت کے دور میں، اس میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ بھارت نے خود کو امریکہ کے لیے چین کے مقابلے میں ایک اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر پیش کیا ہے۔ کیپٹل ہل، جہاں امریکی کانگریس کے دفاتر ہیں، پالیسی سازی کا ایک اہم مرکز ہے، اور وہاں کسی ملک کے حق یا مخالف میں بننے والا بیانیہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ماضی میں بھی بھارت نے پاکستان کو دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والی ریاست ثابت کرنے کے لیے کیپٹل ہل کو استعمال کیا ہے، مگر اب اس مہم میں ایک نئی شدت اور جدت نظر آ رہی ہے۔
مستند ذرائع اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بھارتی سفارت خانے اور وابستہ لابی گروپس نے کیپٹل ہل پر امریکی سینیٹرز اور کانگریس کے اراکین کے ساتھ ملاقاتوں کا ایک وسیع سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد پاکستان پر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کی طرز پر مزید بین الاقوامی پابندیاں لگوانا اور امریکہ سے ملنے والی رہی سہی فوجی یا شہری امداد کو مکمل طور پر بند کروانا ہے۔ بھارتی بیانیے میں پاکستان کی حالیہ اندرونی سیاسی عدم استحکام اور معاشی زبوں حالی کو بطور ثبوت پیش کیا جا رہا ہے کہ پاکستان ایک “ناکام ریاست” بننے کی طرف گامزن ہے، اور اس کا نیوکلیئر پروگرام غیر محفوظ ہاتھوں میں جا سکتا ہے۔ بھارتی لابی اس بات پر زور دے رہی ہے کہ پاکستان پر بھروسہ کرنا امریکی مفادات کے لیے نقصان دہ ہے، اور خطے میں صرف بھارت ہی ایک قابل اعتماد ساتھی ہے۔
اس پوری صورتحال کا اگر غیر جانبدارانہ اور تنقیدی تجزیہ کیا جائے، تو یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ بھارت کا یہ جارحانہ بیانیہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کا سفارتی محاذ پہلے ہی کمزور ہے۔ ملک کے اندر جاری شدید سیاسی انتشار، جہاں حکومت اور اپوزیشن (بالخصوص پی ٹی آئی) کے درمیان محاذ آرائی نے ریاست کی تمام تر توانائیاں نچوڑ لی ہیں، نے عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایک ایسی ریاست جس کے اپنے گھر میں آگ لگی ہو، وہ عالمی برادری میں اپنا کیس مضبوطی سے لڑنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے۔
حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو وہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے قرضوں کے حصول میں مگن ہے، اور سفارتی محاذ پر اس جارحانہ لابی کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی واضح اور مربوط حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ دفتر خارجہ کے روایتی بیانات اب کارگر ثابت نہیں ہو رہے۔ عوامی سطح پر، اس کے اثرات انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اگر بھارت اپنے اس بیانیے کے ذریعے امریکہ کو پاکستان پر مزید اقتصادی پابندیاں لگانے یا آئی ایم ایف کے پروگرام میں رکاوٹیں ڈالنے پر آمادہ کر لیتا ہے، تو پہلے سے مہنگائی اور بیروزگاری کی چکی میں پسی ہوئی عوام کے لیے زندگی مزید اجیرن ہو جائے گی۔ یہ صورتحال ملک کے اندر مزید افراتفری اور مایوسی کا باعث بنے گی۔
حرفِ آخر کے طور پر، کیپٹل ہل پر بھارت کا پاکستان مخالف بیانیہ ایک خاموش خطرہ نہیں، بلکہ ایک طوفان کا پیش خیمہ ہے جسے نظر انداز کرنا قومی سلامتی کے لیے مجرمانہ غفلت کے مترادف ہوگا۔ سفارتی محاذ پر یہ نئی صف بندی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے محض جوابی بیانات کافی نہیں ہوں گے۔ پاکستان کو فوری طور پر اپنے اندرونی سیاسی حالات کو مستحکم کرنا ہوگا، کیونکہ ایک تقسیم شدہ قوم کبھی بھی بیرونی خطرات کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاسی انتقام کی پالیسی کو ترک کر کے تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز (بشمول پی ٹی آئی) کے ساتھ مل کر ایک متفقہ قومی خارجہ پالیسی اور لابی کی حکمت عملی وضع کرے۔ ہمیں امریکہ میں اپنی سفارتی مہم کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا اور عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہوگا کہ ایک مستحکم اور معاشی طور پر مضبوط پاکستان ہی خطے اور دنیا کے امن کے لیے ضروری ہے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے، اور اگر ہم نے اب بھی زمینی حقائق کو تسلیم نہ کیا، تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
موجودہ عالمی صورتحال اور ایران امریکہ ٹکراؤ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ…
تاریخی سنگِ میل: چین کے خلائی مشن کے لیے 2 پاکستانی خلا نورد شارٹ لسٹ…
آئی ایم ایف کی 7 ارب ڈالر پیکیج کے لیے 11 نئی کڑی شرائط تعارف…
اسلام آباد میں غیر معینہ مدت کا لاک ڈاؤن: پاک-امریکا-ایران مذاکرات کے انتظار میں عوام…
ایران اور اسرائیل کشیدگی: بحری محاصرہ اور جوابی کارروائی مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی نے…
آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ایران کا 3 تجارتی جہازوں پر حملہ اور عالمی معیشت پر…
This website uses cookies.