آج کے اس جدید دور میں جہاں دنیا 5G اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے معاشی ترقی کی اڑان بھر رہی ہے، وہیں پاکستان میں #InternetDown کا ہیش ٹیگ ایک مستقل معمول بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ملک بھر میں انٹرنیٹ کی شدید سست روی اور سوشل میڈیا ایپس کی مسلسل بندش یا خرابی نے ایک نئی، تشویشناک بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ سوال اس وقت ہر اس پاکستانی کی زبان پر ہے جس کا روزگار اور کاروبار ڈیجیٹل دنیا سے وابستہ ہے: کیا یہ محض کوئی تکنیکی خرابی ہے، یا ریاست ملک میں انٹرنیٹ کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے کسی ‘نیشنل فائر وال’ کی خاموش تنصیب اور ٹیسٹنگ کر رہی ہے؟ یہ صورتحال محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں، بلکہ ریاست کے کنٹرول اور عوام کے بنیادی ڈیجیٹل حقوق کے درمیان جاری ایک خاموش جنگ ہے۔
پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندش، سست روی یا مخصوص ویب سائٹس تک رسائی مسدود کرنا کوئی نیا رجحان نہیں ہے۔ ماضی میں بھی سیاسی کشیدگی، اپوزیشن کے دھرنوں، یا الیکشن کے حساس مواقع پر عارضی طور پر انٹرنیٹ سروسز معطل کی جاتی رہی ہیں۔ تاہم، حالیہ مہینوں میں حکومتی حکمت عملی ماضی کے مکمل بلیک آؤٹ سے تبدیل ہو کر ‘تھروٹلنگ’ (Throttling) یعنی انٹرنیٹ کی رفتار کو جان بوجھ کر کم کرنے اور ڈیپ پیکٹ انسپکشن (DPI) جیسی جدید تکنیک کی طرف منتقل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ آزاد آئی ٹی ماہرین اور ڈیجیٹل رائٹس کے کارکنان عرصے سے خبردار کر رہے تھے کہ موجودہ سیاسی صورتحال اور بیانیے کی جنگ کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک ایسا سینٹرلائزڈ سنسرشپ سسٹم (نیشنل فائر وال) لانے کی تیاری کی جا رہی ہے، جو انٹرنیٹ ٹریفک کو فلٹر کر سکے۔
اس وقت ملک بھر کے کروڑوں صارفین، اور خاص طور پر لاکھوں فری لانسرز اور آئی ٹی پروفیشنلز، شدید ذہنی اور معاشی اذیت کا شکار ہیں۔ روزمرہ رابطے کی سب سے بڑی ایپ ‘واٹس ایپ’ پر تصاویر، وائس نوٹس اور اہم دستاویزات کے ڈاؤن لوڈ ہونے میں رکاوٹوں نے کاروباری سرگرمیوں کو مفلوج کر دیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ان پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (VPNs) کو بھی مبینہ طور پر بلاک یا محدود کیا جا رہا ہے۔ سرکاری سطح پر، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور حکومتی وزراء کی جانب سے اس صورتحال کو کبھی سب میرین کیبل کی کٹوتی اور کبھی سسٹم کی معمول کی اپ گریڈیشن قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن حکومتی بیانات میں تضاد اور شفافیت کا فقدان ان افواہوں کو حقیقت کا رنگ دے رہا ہے کہ یہ تمام تر مسائل نیشنل فائر وال کی ٹیسٹنگ کا ہی نتیجہ ہیں۔
بطور ایک صحافی، جب ہم اس صورتحال کا غیر جانبدارانہ اور حقیقت پسندانہ تجزیہ کرتے ہیں تو دو بالکل متضاد بیانیے سامنے آتے ہیں۔ ایک طرف ریاست اور حکومت کا یہ موقف ہے کہ ملکی سلامتی کے خلاف ہونے والے منظم سائبر پروپیگنڈے، فیک نیوز، اور سیاسی عدم استحکام پھیلانے والی مہمات کو روکنے کے لیے سائبر اسپیس کو ریگولیٹ کرنا ناگزیر ہے۔ بلاشبہ، سیاسی درجہ حرارت، بالخصوص پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سوشل میڈیا کے بھرپور استعمال نے ریاست کو بیانیے کے کنٹرول کے لیے دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ ریاست کی سائبر سیکیورٹی کی تشویش اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے، لیکن اس کا موجودہ طریقہ کار انتہائی غیر منطقی اور تباہ کن ہے۔
حکومت ایک طرف اربوں ڈالر کی آئی ٹی ایکسپورٹس کا ہدف مقرر کر کے معاشی بحالی کے خواب دکھا رہی ہے، اور دوسری طرف انٹرنیٹ کی اس اعصاب شکن سست روی سے بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی فری لانسرز اور سافٹ ویئر ہاؤسز اپنا اعتبار اور کلائنٹس کھو رہے ہیں۔ ایک عالمی کلائنٹ کو اس سے غرض نہیں کہ آپ کے ملک کی سیاسی کشمکش کیا ہے، اسے صرف اپنے پروجیکٹ کی بروقت ڈیلیوری سے غرض ہے۔ اس ڈیجیٹل دیوار کی تعمیر دراصل اس آئی ٹی انڈسٹری کا گلا گھونٹ رہی ہے جو اس وقت خستہ حال ملکی معیشت کی واحد لائف لائن اور نوجوانوں کی امید ہے۔
انٹرنیٹ کو محض ایک تفریحی سہولت یا سیاسی ٹول سمجھنے کی سوچ اب فرسودہ ہو چکی ہے۔ آج کے دور میں انٹرنیٹ سانس لینے کے مترادف ایک بنیادی معاشی ضرورت ہے۔ اگر اربابِ اختیار کو سائبر سیکیورٹی، ہائبرڈ وار فیئر یا سیاسی مہم جوئی کے حوالے سے کوئی چیلنجز درپیش ہیں، تو اس کا حل عوام اور آئی ٹی سیکٹر کو اندھیرے میں رکھ کر، معیشت کی قیمت پر فائر وال لگانا قطعی نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر آئی ٹی انڈسٹری کے اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے، ایک شفاف اور متوازن ڈیجیٹل پالیسی مرتب کرے جو ملکی سلامتی کے ساتھ ساتھ آزادیِ اظہار اور معاشی مفادات کا بھی تحفظ کرے۔ اگر بروقت حقیقت پسندانہ فیصلے نہ کیے گئے تو یہ ‘فائر وال’ ہمیں بیرونی خطرات سے بچانے کے بجائے دنیا کی ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت سے ہمیشہ کے لیے کاٹ کر رکھ دے گا۔
ایران اور اسرائیل کشیدگی: بحری محاصرہ اور جوابی کارروائی مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی نے…
آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ایران کا 3 تجارتی جہازوں پر حملہ اور عالمی معیشت پر…
مقدمہ موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال انتہائی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ حالیہ ڈیولپمنٹس…
بانیِ پی ٹی آئی کی صحت پر اہل خانہ کی تشویش اور عالمی اپیل تعارف…
گزشتہ رات سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پالتو ٹاوٹ اور پیڈ صحافی ایران پر دشنام طرازی…
بھارت کا کیپٹل ہل پر پاکستان مخالف بیانیہ، سفارتی محاذ پر نئی صف بندی تعارف…
This website uses cookies.