پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد ان دنوں ایک متضاد صورتحال کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ایک طرف عالمی سفارتکاری کے ایوانوں میں پاکستان ایک اہم ترین عالمی کردار کے طور پر ابھر رہا ہے، تو دوسری جانب وفاقی دارالحکومت کے باسی کنٹینرز اور خاردار تاروں کے سائے میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ پاک-امریکا-ایران متوقع مذاکرات کے پیشِ نظر اسلام آباد اور راولپنڈی میں غیر معینہ مدت کے لیے لگائے گئے لاک ڈاؤن نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح مفلوج کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر امن کی کوششیں بلاشبہ قابلِ ستائش ہیں، لیکن کیا ان کوششوں کی قیمت اس ملک کے عام شہری اور دیہاڑی دار مزدور کو اپنا روزگار گنوا کر چکانی چاہیے؟ یہ وہ سوال ہے جو آج ہر اس شہری کی زبان پر ہے جو بند سڑکوں پر گھنٹوں خوار ہو رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے سنگین حالات کے بعد، پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا ایک انتہائی حساس اور اہم بیڑا اٹھایا ہے۔ موجودہ حکومت کی یہ سفارتی پیش رفت بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تشخص کو بہتر بنانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ تاہم، انتظامی سطح پر وہی پرانا اور فرسودہ ماڈل اپنایا گیا ہے جو ہم عموماً سیاسی بحرانوں میں دیکھتے آئے ہیں۔ ماضی قریب میں جب بھی سیاسی جماعتوں خصوصاً تحریک انصاف (PTI) کی جانب سے احتجاج یا لانگ مارچ کی کال دی گئی، ریاست کا پہلا اور آخری ہتھیار شہر کو کنٹینرز سے بند کر دینا ہوتا تھا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ آج جب معاملہ ملکی اپوزیشن کے بجائے عالمی سفارتی شخصیات کے تحفظ کا ہے، تب بھی انتظامیہ کے پاس “شہر بند کر دینے” کے علاوہ کوئی جدید سیکیورٹی پلان یا متبادل حکمتِ عملی موجود نہیں ہے۔
اس وقت اسلام آباد کا ریڈ زون اور اس سے ملحقہ تمام اہم شاہرائیں مکمل طور پر سیل ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والے راستے، فیض آباد انٹرچینج اور ایکسپریس وے پر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے۔ تعلیمی اداروں میں حاضری نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ ہسپتالوں تک پہنچنے کے لیے مریضوں اور ایمبولینسز کو شدید اذیت کا سامنا ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال ٹرانسپورٹ کی بندش ہے جس نے ان ہزاروں افراد کو گھروں تک محدود کر دیا ہے جن کے چولہے روزانہ کی کمائی سے جلتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس غیر اعلانیہ اور غیر معینہ مدت کے لاک ڈاؤن کا کوئی واضح ٹائم فریم نہیں دیا گیا، جس کی وجہ سے تاجر برادری اور عام شہریوں میں شدید بے چینی اور غصہ پایا جاتا ہے۔
بطور ایک صحافی، جب ہم اس صورتحال کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں تو حکومتی ترجیحات میں ایک واضح تضاد نظر آتا ہے۔ ایک ریاست کی کامیابی صرف اس کی خارجہ پالیسی سے نہیں بلکہ اس کے شہریوں کی اندرونی حالتِ زار سے بھی ماپی جاتی ہے۔ وی آئی پی شخصیات کے لیے شہر کو قلعے میں تبدیل کر دینا قطعی طور پر کوئی قابلِ فخر انتظامی کارنامہ نہیں ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی عالمی کانفرنسز اور حساس مذاکرات ہوتے ہیں، لیکن وہاں سیکیورٹی کے جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ عام آدمی کی زندگی کا پہیہ چلتا رہے۔
یہاں مسئلہ صرف سڑکوں کی بندش کا نہیں، بلکہ معاشی قتل کا ہے۔ مہنگائی، بجلی اور گیس کے ہوشربا بلوں اور آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے بوجھ تلے دبا ہوا شہری پہلے ہی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ایسے میں کئی کئی دن تک روزگار کے مواقع چھین لینا سراسر ناانصافی ہے۔ حکومت کا کام صرف عالمی مہمانوں کو پروٹوکول دینا نہیں، بلکہ اپنے غریب عوام کو ریلیف اور سہولیات فراہم کرنا بھی ہے۔ جب تک انتظامی سطح پر اس بے حسی کا خاتمہ نہیں ہوگا، سفارتی سطح پر ملنے والی کامیابیاں عوام کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھیں گی۔
حکومتِ وقت کو یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ خارجہ محاذ پر کامیابیاں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن داخلی سطح پر عوام کو دیوار سے لگا کر کوئی بھی ریاست مضبوط نہیں ہو سکتی۔ انتظامیہ کو فوری طور پر سیکیورٹی کے نام پر اپنائے گئے اس فرسودہ ‘کنٹینر کلچر’ کو ترک کر کے جدید سیکیورٹی پروٹوکولز مرتب کرنے چاہئیں۔ شہریوں کو متبادل اور محفوظ راستے فراہم کرنا اور دیہاڑی دار طبقے کے معاشی نقصانات کا ازالہ کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ سفارتکاری کا اصل مقصد بالآخر انسانیت کی فلاح ہوتا ہے، اور یہ فلاح اس وقت تک بے معنی ہے جب تک میزبان ملک کا اپنا شہری اپنے ہی دارالحکومت میں اجنبی اور لاوارث محسوس کرے۔
موجودہ عالمی صورتحال اور ایران امریکہ ٹکراؤ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ…
تاریخی سنگِ میل: چین کے خلائی مشن کے لیے 2 پاکستانی خلا نورد شارٹ لسٹ…
آئی ایم ایف کی 7 ارب ڈالر پیکیج کے لیے 11 نئی کڑی شرائط تعارف…
ایران اور اسرائیل کشیدگی: بحری محاصرہ اور جوابی کارروائی مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی نے…
آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ایران کا 3 تجارتی جہازوں پر حملہ اور عالمی معیشت پر…
مقدمہ موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال انتہائی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ حالیہ ڈیولپمنٹس…
This website uses cookies.