پاکستان کی معیشت ایک بار پھر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سخت ترین شکنجے میں ہے۔ 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) پروگرام کے تحت، جسے معاشی استحکام کی آخری لائف لائن قرار دیا جا رہا تھا، اب آئی ایم ایف نے مزید 11 نئی اور کڑی ساختی شرائط (Structural Benchmarks) عائد کر دی ہیں۔ ان نئی شرائط کے اضافے کے بعد، گزشتہ دو برسوں میں پاکستان پر عائد مجموعی شرائط کی تعداد 75 تک پہنچ چکی ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی قرض دہندہ کو اسلام آباد کے معاشی وعدوں پر مکمل اعتماد نہیں، اور وہ مائیکرو مینجمنٹ کے ذریعے ایک ایک قدم کی نگرانی کر رہا ہے۔ ان شرائط کا بوجھ براہِ راست ملکی معیشت کی رفتار اور عام آدمی کی جیب پر پڑنے والا ہے۔
پاکستان کی معاشی تاریخ آئی ایم ایف کے پروگراموں سے بھری پڑی ہے۔ دہائیوں سے ہم “بوم اینڈ بسٹ” (Boom and Bust) کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں اور موجودہ 7 ارب ڈالر کا پیکیج کوئی پہلا موقع نہیں، بلکہ پاکستان کا 24واں آئی ایم ایف پروگرام ہے۔ گزشتہ برس جب ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا تھا، تو طویل اور کٹھن مذاکرات کے بعد اس پروگرام کی منظوری دی گئی تھی۔ حکومتِ وقت نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ یہ پاکستان کا آخری آئی ایم ایف پروگرام ہوگا اور تمام سخت فیصلے کر لیے گئے ہیں۔ اب تک پاکستان کو اس معاہدے کے تحت 3 ارب ڈالر کی اقساط مل چکی ہیں، اور آئندہ ایک ارب ڈالر کی قسط مئی کے اوائل میں متوقع ہے۔ لیکن فنڈز کے اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے، حکومت کو مسلسل اپنی معاشی پالیسیوں اور فیصلوں کا کنٹرول عالمی ادارے کو سونپنا پڑ رہا ہے۔
مصدقہ ذرائع اور حالیہ رپورٹس کے مطابق، آئی ایم ایف کی جانب سے عائد کردہ 11 نئی شرائط نے معاشی پالیسی سازی کو مزید سخت کر دیا ہے۔ ان شرائط کے چیدہ چیدہ اور اہم نکات درج ذیل ہیں:
بطور تجزیہ کار، جب ان 11 شرائط کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ایک انتہائی تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ آئی ایم ایف کا زور صرف محاصل (Revenues) بڑھانے پر ہے، اور حکومت کے پاس اس کا واحد آسان حل بالواسطہ ٹیکسوں (Indirect Taxes) اور توانائی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہے۔ ماہانہ اور سہ ماہی بنیادوں پر بجلی و گیس کے بلوں میں اضافے کی شرط مڈل کلاس اور تنخواہ دار طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دے گی جو پہلے ہی اپنے بل ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ صنعتوں کے لیے ٹیکس مراعات کا خاتمہ بظاہر مساوی مواقع فراہم کرنے کا قدم لگتا ہے، لیکن اس سے ملک میں پہلے سے سست روی کا شکار صنعتی عمل مزید جمود کا شکار ہو سکتا ہے، جس کا حتمی نتیجہ بے روزگاری میں اضافے کی صورت میں نکلے گا۔
اگرچہ بی آئی ایس پی کی رقم میں 5 ہزار روپے کا اضافہ کیا جا رہا ہے، لیکن جو مہنگائی توانائی کی قیمتوں اور نئے ٹیکسوں کے طوفان سے آئے گی، اس کے سامنے یہ رقم سمندر میں قطرے کے مترادف ہے۔ حکومت مسلسل اشرافیہ، ریئل اسٹیٹ، زراعت اور ریٹیل سیکٹر کو مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں لانے سے گریزاں ہے، اور سارا بوجھ پہلے سے ٹیکس دینے والے عام شہری پر ڈالا جا رہا ہے۔ سرکاری ٹھیکوں میں مسابقت کی شرط البتہ ایک مثبت قدم ہے جس سے کرپشن اور اقربا پروری میں کمی آ سکتی ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ پیکیج عوام کے لیے ایک انتہائی کڑوی گولی ہے۔
آئی ایم ایف کی یہ 11 نئی کڑی شرائط اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی معاشی خودمختاری بری طرح مجروح ہو چکی ہے۔ دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے حکومت کے پاس آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن ماننے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ تاہم، صرف عالمی اداروں سے قرضے لے کر اور غریب عوام کا خون نچوڑ کر معیشت کو مستحکم نہیں کیا جا سکتا۔ وقتی اور سطحی ریلیف کے بجائے، ریاست کو اب وہ مشکل ساختی اصلاحات (Structural Reforms) کرنی ہوں گی جن سے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ہو، ایلیٹ کلاس کی مراعات ختم کی جائیں اور ان تمام شعبوں سے ٹیکس وصول کیا جائے جو اب تک مقدس گائے بنے ہوئے ہیں۔ بصورتِ دیگر، یہ شرائط عوام کو غربت کی مزید گہری کھائی میں دھکیل دیں گی اور 7 ارب ڈالر کا یہ پیکج بھی پچھلے 23 پروگراموں کی طرح محض ایک عارضی پین کلر ہی ثابت ہوگا۔
موجودہ عالمی صورتحال اور ایران امریکہ ٹکراؤ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ…
تاریخی سنگِ میل: چین کے خلائی مشن کے لیے 2 پاکستانی خلا نورد شارٹ لسٹ…
اسلام آباد میں غیر معینہ مدت کا لاک ڈاؤن: پاک-امریکا-ایران مذاکرات کے انتظار میں عوام…
ایران اور اسرائیل کشیدگی: بحری محاصرہ اور جوابی کارروائی مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی نے…
آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ایران کا 3 تجارتی جہازوں پر حملہ اور عالمی معیشت پر…
مقدمہ موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال انتہائی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ حالیہ ڈیولپمنٹس…
This website uses cookies.