ایک ایسے وقت میں جب پاکستانی عوام مسلسل معاشی بوجھ، سیاسی عدم استحکام اور روزمرہ کے بحرانوں کی خبروں میں گھرے ہوئے ہیں، آسمانوں کی وسعتوں سے ایک انتہائی حوصلہ افزا اور فخر سے سر بلند کر دینے والی خبر سامنے آئی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار، دو پاکستانی شہریوں کو چین کے خلائی مشن کے لیے باضابطہ طور پر شارٹ لسٹ کر لیا گیا ہے۔ یہ دونوں خلا نورد چین کے ‘تیانگونگ’ (Tiangong) اسپیس اسٹیشن پر جانے والے مشن کی حتمی ٹریننگ کا حصہ بنیں گے۔ یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کے قومی خلائی ادارے (سپارکو) کے لیے ایک عظیم سنگِ میل ہے، بلکہ ملکی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہوگا۔
پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی اور معاشی تعاون کی طرح، خلائی ٹیکنالوجی اور سائنسی تحقیق میں بھی شراکت داری کی ایک مضبوط اور طویل تاریخ رہی ہے۔ پاکستان کے خلائی ادارے ‘سپارکو’ (SUPARCO) نے ماضی میں بھی چین کے تعاون سے کئی اہم کامیابیاں سمیٹی ہیں، جن میں 2024 کا تاریخی قمری مشن (iCube-Qamar) اور مختلف کمیونیکیشن سیٹلائٹس کا کامیاب خلا میں بھیجا جانا شامل ہے۔ تاہم، کسی انسان کو خلا میں بھیجنے کا خواب پاکستانیوں کے لیے دہائیوں سے محض ایک خواب ہی تھا۔
جب چین نے اپنے جدید ترین خلائی اسٹیشن ‘تیانگونگ’ کی تکمیل کے بعد عالمی شراکت داروں اور دوست ممالک کے لیے دروازے کھولے، تو پاکستان نے اس سنہری موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اپنے بہترین دماغوں کو اس کٹھن اور مسابقتی عمل کے لیے نامزد کیا گیا، اور اس طویل سفارتی و سائنسی تعاون کا ثمر آج ان دو خلا نوردوں کی شارٹ لسٹنگ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق، ان دو پاکستانی خلا نوردوں کا انتخاب ایک انتہائی کڑے اور طویل سائنسی، جسمانی اور نفسیاتی ٹیسٹنگ کے عمل کے بعد کیا گیا ہے۔ شارٹ لسٹ ہونے والے یہ امیدوار اب چین کے جدید ترین خلائی مراکز میں سخت ٹریننگ کے مرحلے سے گزریں گے۔ اس ٹریننگ میں مائیکرو گریویٹی (Microgravity) یا زیرو گریویٹی ماحول میں رہنے کی عادت ڈالنا، خلائی جہاز اور اسٹیشن کے پیچیدہ تکنیکی نظام کو آپریٹ کرنا، سائنسی تجربات کرنا اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی مشقیں شامل ہوں گی۔
اگرچہ حتمی اڑان اور خلا میں جانے کے شیڈول میں ابھی ٹریننگ کے باعث کچھ وقت درکار ہے، لیکن اس اعلیٰ سطحی ٹریننگ پروگرام میں شمولیت ہی بذاتِ خود ایک ایسا منفرد اعزاز ہے جس نے پاکستان کا نام ان چند ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا ہے جو انسان بردار (Manned) خلائی مشنز کا حصہ بننے کی عالمی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بطور ایک صحافی اور تجزیہ کار، جب ہم اس خبر کا معاشرتی اور نفسیاتی اثر دیکھتے ہیں تو یہ انتہائی گہرا اور مثبت نظر آتا ہے۔ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس خبر نے طویل عرصے بعد ایک ایسی بحث چھیڑ دی ہے جس میں مایوسی کے بجائے فخر کا عنصر نمایاں ہے۔ ایک طرف جہاں عوام روزانہ کی بنیاد پر مہنگائی، آئی ایم ایف کی کڑی شرائط اور سیاسی لاک ڈاؤنز کی تلخ حقیقتوں کا سامنا کر رہے ہیں، وہیں یہ خبر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستانی نوجوانوں میں ٹیلنٹ اور قابلیت کی کوئی کمی نہیں۔
یہ کامیابی ملک میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کی تعلیم کو فروغ دینے میں ایک طاقتور محرک (Catalyst) کا کردار ادا کرے گی۔ اس سے ملک کے ان لاکھوں طالب علموں کو ایک نیا خواب ملے گا جو اب تک سائنس کو صرف درسی کتب کی حد تک محدود سمجھتے تھے۔ تاہم، اس موقع پر اربابِ اختیار سے یہ سوال بھی بجا طور پر پوچھا جانا چاہیے کہ کیا حکومت اس کامیابی کو بنیاد بنا کر ملک کے اندر تحقیق اور ترقی (R&D) کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرے گی، یا ہماری پالیسیاں صرف غیر ملکی شراکت داریوں پر ہی انحصار کرتی رہیں گی؟
چین کے خلائی مشن کے لیے پاکستانی خلا نوردوں کا شارٹ لسٹ ہونا محض ایک وقتی خبر نہیں، بلکہ یہ قومی وقار اور مستقبل کے امکانات کی علامت ہے۔ یہ اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ اگر درست سمت میں رہنمائی، میرٹ اور مواقع فراہم کیے جائیں تو ہمارے لوگ عالمی سطح پر کسی سے پیچھے نہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ریاستِ پاکستان اس تاریخی سنگِ میل کو ایک نئے سفر کا آغاز سمجھے۔ ہمیں اپنے تعلیمی اور سائنسی اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سپارکو اور دیگر سائنسی اداروں کو مزید بااختیار اور مالی طور پر مستحکم کیا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں پاکستان نہ صرف چین یا دیگر ممالک کے مشنز کا حصہ بنے، بلکہ اپنے بل بوتے پر بھی خلائی تسخیر کے میدان میں اپنا لوہا منوا سکے۔ یہ کامیابی تاریکی میں ایک ستارے کی مانند ہے، اور اب اس روشنی کو پورے ملک کے سائنسی مستقبل تک پھیلانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
موجودہ عالمی صورتحال اور ایران امریکہ ٹکراؤ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ…
آئی ایم ایف کی 7 ارب ڈالر پیکیج کے لیے 11 نئی کڑی شرائط تعارف…
اسلام آباد میں غیر معینہ مدت کا لاک ڈاؤن: پاک-امریکا-ایران مذاکرات کے انتظار میں عوام…
ایران اور اسرائیل کشیدگی: بحری محاصرہ اور جوابی کارروائی مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی نے…
آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ایران کا 3 تجارتی جہازوں پر حملہ اور عالمی معیشت پر…
مقدمہ موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال انتہائی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ حالیہ ڈیولپمنٹس…
This website uses cookies.