تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی قیادت کا موقف ہے کہ جو ممالک عالمی معاہدوں کی پاسداری نہیں کرتے، ان کے ساتھ بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایران نے اپنی فضائی اور بحری طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں مزید دو بحری جہازوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے، جس کے بعد مقبوضہ جہازوں کی کل تعداد چار ہو گئی ہے۔
امریکہ کے اندرونی حالات بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سازگار نظر نہیں آ رہے۔ ورجینیا کے حالیہ ریفرنڈم میں ٹرمپ کو بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے باعث امریکی کانگریس پر ان کا کنٹرول ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس سیاسی ناکامی کے ساتھ ساتھ امریکی بحریہ کے اندر سے بھی بغاوت کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ وزارت بحریہ کے سربراہ سمیت کئی اعلیٰ حکام نے استعفے دے دیے ہیں، جس کی بڑی وجہ ایران کے خلاف ناکام جنگی حکمت عملی بتائی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست جنگ چھڑتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عرب ممالک، بالخصوص متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو ہوگا۔ ایران نے واضح پیغام دیا ہے کہ حملے کی صورت میں وہ خطے کی تیل کی ترسیل اور انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس کا دنیا کے پاس فی الحال کوئی متبادل حل موجود نہیں ہے۔ دوسری جانب شمالی کوریا نے بھی اس تنازع میں ایران کی حمایت کا اعلان کر کے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
پاکستان کی سیاست میں بھی ایک بڑا موڑ آیا ہے۔ اڈیالہ جیل سے سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی پارٹی (پی ٹی آئی) کو تمام اسمبلیوں سے فوری استعفے دینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عمران خان کا یہ فیصلہ موجودہ حکومت پر دباؤ بڑھانے کی ایک بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کی رہائی کے لیے ان کے صاحبزادوں نے بھی عالمی سطح پر مہم تیز کر دی ہے۔
عالمی سطح پر پاکستان کے لیے ایک اہم خبر یہ ہے کہ اقوام متحدہ نے عمران خان کی گرفتاری اور قید کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پاکستانی حکومت سے اس پر جواب طلب کر لیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اس اقدام کو پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے موجودہ حکومت پر بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
ویڈیو میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والی حالیہ بڑی ڈیلز میں کچھ مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومتی وزراء اور مشیر خود بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ ملکی معیشت کو سنبھالنا مشکل ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق عمران خان کی عدم موجودگی میں سیاسی عدم استحکام معیشت کے لیے زہر قاتل ثابت ہو رہا ہے اور عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال نہیں ہو پا رہا۔
تاریخی سنگِ میل: چین کے خلائی مشن کے لیے 2 پاکستانی خلا نورد شارٹ لسٹ…
آئی ایم ایف کی 7 ارب ڈالر پیکیج کے لیے 11 نئی کڑی شرائط تعارف…
اسلام آباد میں غیر معینہ مدت کا لاک ڈاؤن: پاک-امریکا-ایران مذاکرات کے انتظار میں عوام…
ایران اور اسرائیل کشیدگی: بحری محاصرہ اور جوابی کارروائی مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی نے…
آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ایران کا 3 تجارتی جہازوں پر حملہ اور عالمی معیشت پر…
مقدمہ موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال انتہائی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ حالیہ ڈیولپمنٹس…
This website uses cookies.