امریکہ، ایران تنازعہ! ایرانیوں کو ‘سرنڈر’ کے لفظ سے نفرت کیوں ہے؟جمی ورک کا تجزیہ

امریکہ غلط کہتا ہے کہ اس نے اسلام آباد مذاکرات حسن نیت سے انجام دیے۔ سرنڈر کرنے کا مطالبہ تھا جو ایران نے ریجیکٹ کر دیا۔

جب نام نہاد مذاکرات ہو رہے تھے ٹرمپ آبنائے ہرمز کو مکمل بند کرنے اور ایران کا سمندری محاصرہ کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ اس لئے ٹرمپ نے مذاکراتی ٹیم کو آخری راؤنڈ سے پہلے ہی واپس منگوا لیا۔

امریکہ میں مقیم ایران کے کہنہ مشق سفارت کار محمد موسویان نے امریکہ کو نصیحت کی ہے کہ ایرانیوں کے سامنے کبھی لفظ سرنڈر (فارسی میں “تسلیم”) استعمال نہ کریں۔ ایرانیوں کو اس لفظ اور خیال سے نفرت ہے۔ وہ کبھی کسی صورت “تسلیم” نہیں کریں گے۔

یہ بات سو فیصد درست ہے۔ اور اس کی ایک تاریخ ہے۔ پچھلا ہزار سال ایران پر گراں گزرا۔ بہت ساری عالمی طاقتوں نے ایران کو “سرنڈر” کروانے کی کوشش کی۔ بڑے بڑے نقصانات ہوئے لیکن ایرانی سرنڈر نہ ہوئے۔ اور سرنڈر ہونے کے خیال سے انہیں نفرت ہوگئی۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ امریکی سفارتی آداب اور سفارتی زبان کے استعمال سے نابلد ہیں۔ اور اس سے بہت مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ برطانیہ، روس اور چین ان چیزوں کو بہت بہتر انداز میں سمجھتے ہیں۔

برطانیہ کی مثال تو بہت ہی دلچسپ ہے۔ انہوں نے موجودہ پاکستان اور ہندوستان میں جب ٹاؤٹ بھی بھرتی کرنے ہوتے تھے تو پوچھتے تھے: “ہم سے دوستی کرے گا؟”

مطلب یہ ہوتا کہ ہمارے لئے کام کرے گا۔ اس طرح انہوں نے بڑے بڑے خاندانوں کو اپنا ٹاؤٹ بنایا۔

مزید اہم خبریں:۔

شیئر کریں
Scroll to Top