عمران خان، بشریٰ بی بی سمیت تحریک انصاف کے کئی اسیران تقریباً تین سال سے قید میں ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی بھی کچھ لوگ احتجاج کرنے کے لیے عمران خان کی کال کا انتظار کر رہے ہیں۔
کیا عمران خان خود کہے گا کہ آؤ اور مجھے باہر نکالو؟ یہ تو پارٹی اور عوام کی ذمہ داری ہے۔ 9 اپریل کے بعد عمران خان نے وکلاء کو نمائندگی دی شاید وہ سمجھتے تھے کہ وکلاء قانونی داؤ پیچ جانتے ہیں اور آنے والے دنوں میں ان کی زیادہ ضرورت ہوگی مگر تین سال بعد بھی وکلاء کی طرف سے کوئی خاطر خواہ یا نتیجہ خیز تحریک نہیں چلائی گئی۔
بار الیکشن سے پہلے بڑے بڑے نعرے لگائے جاتے ہیں، جذباتی تقاریر اور دعوے کیے جاتے ہیں اور عہدہ ملتے ہی سب خاموش ہو جاتے ہیں۔ عمران خان نے بارہا کہا کہ میں عدالتوں سے سرخرو ہو کر آؤں گا تو پھر کیوں انصاف لینے کے لیے ILF کو ساتھ ملا کر عدالتوں کے باہر احتجاج نہیں کیا جاتا، بارز میں ہڑتال کیوں نہیں کی جاتی؟
اگر عمران خان شکایت نہیں کرتا تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہم اپنا فرض بھول جائیں۔ عمران خان قید تنہائی میں ہے، اُس کی آنکھ کی بینائی تقریباً ضائع کر دی گئی، اب اُس کی اہلیہ کی بھی آنکھ کی سرجری کی گئی۔
کیا ابھی بھی ہم نے عمران خان کی کال کا انتظار کرنا ہے؟ کیا اجازت ناموں پر تحریکیں چلائی جاتی ہیں؟ تو مہربانی کر کے تاویلیں اور بہانے بنانا بند کریں۔ پوری جماعت اور عوام اپنے لیڈر عمران خان کی واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔ عمران خان اپنے حصے کی قربانی دے چکا اب ہماری باری ہے۔
عمران خان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد
قید خانے ہمارے حوصلے نہیں توڑ سکتے’ — فلک جاوید کا جیل سے قوم کو جذباتی پیغام

مزید اہم خبریں :۔
- عالمی سیاست میں بڑی تبدیلیاں، مشرقِ وسطیٰ کا بحران اور پاکستان کی سیاسی و سفارتی صورتحال
- قیدِ تنہائی اور بینائی کا ضیاع: فلک جاوید نے جیل سے لکھے گئے خط میں خاموش رہنے والوں کو آئینہ دکھا دیا
- آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی، ایران کا اہم فیصلہ اور پاکستان کی سیاسی و معاشی صورتحال
- لاہور میراتھن میں ایتھلیٹس موٹر سائیکلوں پر، ایونٹ کی شفافیت پر سوالات اٹھ گئے۔۔
- یہ لوگ سیریس نہیں ہیں اڈیالہ جانے کے لیے۔۔ علاءالدین



