چھ مہینوں سے عمران خان کی بہنیں اڈیالہ جیل کے باہر 10 ہزار بندہ مانگ رہی ہیں۔ ایک ہزار بندہ بھی نہیں پہنچتا۔ یہ کے پی کے میں جب جلسے کی بات آتی ہے تو ان کے قافلے ہی نہیں ختم ہوتے۔ جناب لمبی لمبی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔ جلسہ گاہ فل ہو جاتا ہے، باہر عوام کھڑی ہوتی ہے۔
ان کی پرموشنیں ہی نہیں ختم ہو رہی ہوتیں کھمبوں کی۔ جناب فلانے کا قافلہ نکل آیا ہے۔ یہاں پہنچ گیا قافلہ، وہاں پہنچ گیا قافلہ، ابھی انٹر ہو گیا قافلہ، آدھے راستے میں رہ گیا قافلہ۔ یہ جتنے کھمبے ہیں، یہ ابھی دو ہفتے پہلے علیمہ خان نے کال دی تھی نا، پاکستان تحریک انصاف کا دس ہزار عہدے داران اڈیالہ جیل کے باہر آنا چاہیے۔ یہی کہا تھا علیمہ خان نے، جو نہیں آ سکتا وہ استعفیٰ دے گھر جائے۔ ایک ہزار بھی نہیں پہنچا۔ ایک ہزار بھی زیادہ بتا رہا ہوں، ایک سو عہدے دار نہیں پہنچا تھا۔
کے پی کے میں جلسے کی باری آئی ہے تو جناب ان کے ٹشن ہی نہیں ختم ہو رہے۔ ان کی گاڑیوں کی لائنیں نہیں ختم ہو رہیں۔ پتا نہیں کتنی کتنی گاڑیاں، پتا نہیں رینٹ پہ لے آئے ہیں اتنی زیادہ گاڑیاں آ گئی ہیں ان کے پاس۔ عوام ہی عوام ہے جہاں دیکھو عوام ہے۔ لیکن اڈیالہ جیل کے باہر آپ کو پانچ سو بندہ نظر نہیں آتا۔
یہ لوگ سیریس نہیں ہیں اڈیالہ جانے کے لیے۔ یہ لوگ سیریس نہیں ہیں اسلام آباد پنڈی بند کرنے کے لیے۔ یہ لوگ سیریس نہیں ہیں اپنا صوبہ بند کرنے کے لیے۔ ایک جلسہ کرنے کے بجائے آپ ہزار جلسے کرو کے پی کے میں، خان نے باہر نہیں آنا۔ اسٹیبلشمنٹ، فوج سمجھتی ہے اور اس چیز کی فوج نے اجازت دی ہوئی ہے کہ بھائی تم کے پی کے کے اندر جتنے مرضی جلسے کرو، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بس تم نے صوبہ بند نہیں کرنا۔ اسلام آباد کی طرف منہ نہیں کرنا۔ تم نے اڈیالہ جیل کی طرف منہ نہیں کرنا۔
کیونکہ یہ اس طرف منہ کریں گے تو سسٹم کو پرابلم ہو گی۔ اسٹیبلشمنٹ کو پرابلم ہو گی۔ اور جب اسٹیبلشمنٹ کو پرابلم ہو گی پھر وہ آپ کی بات مانیں گے۔ پھر وہ آپ کی بات سنیں گے کیونکہ ان کے اوپر پریشر آئے گا۔ ان کو نظر آ رہا ہو گا کہ یار سسٹم کو ان لوگوں نے حلق سے پکڑ لیا ہے۔
لیکن ہماری قیادت سسٹم کو حلق سے پکڑنا نہیں چاہتی۔ ہماری قیادت اس وقت وہی کر رہی ہے جو فوج کو سوٹ کرتا ہے۔ جو اسٹیبلشمنٹ کو سوٹ کرتا ہے۔ اور اسٹیبلشمنٹ کو یہی سوٹ کرتا ہے کہ کے پی کے کے اندر آپ جلسے پہ جلسہ رکھو۔ ریلی پہ ریلی نکالو۔ بھڑکوں پہ بھڑکیں مارو۔ لیکن پریکٹیکلی کچھ مت کرنا۔
کیونکہ جس دن پریکٹیکلی یہ صوبہ بند کریں گے، جس دن پریکٹیکلی یہ اڈیالہ جیل کے باہر پہنچیں گے، جس دن پریکٹیکلی یہ اسلام آباد، پنڈی بند کریں گے، پنجاب بند کریں گے، سندھ بند کریں گے۔ آپ دیکھیے گا اسٹیبلشمنٹ کی کیسے کانپیں ٹانگتی ہیں۔ پھر اسٹیبلشمنٹ نہ صرف عمران خان کا علاج بھی کروائے گی بلکہ اسے رہا کرنے پہ مجبور ہو سکتی ہے۔ اگر آپ لوگ صوبہ بند کریں گے تو، اگر آپ لوگ اسلام آباد پنڈی بند کریں گے تو۔ یہ جلسے جلسے کرنے سے کچھ نہیں ہونے والا۔ ایک بھڑک چھوڑ کے ہزار بھڑکیں مارنے سے کچھ نہیں ہونے والا۔۔ علاءالدین…
مزید اہم خبریں :۔
- آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی، ایران کا اہم فیصلہ اور پاکستان کی سیاسی و معاشی صورتحال
- لاہور میراتھن میں ایتھلیٹس موٹر سائیکلوں پر، ایونٹ کی شفافیت پر سوالات اٹھ گئے۔۔
- یہ لوگ سیریس نہیں ہیں اڈیالہ جانے کے لیے۔۔ علاءالدین
- امریکہ، ایران کشیدگی اور بلیک لسٹ برقرار: مذاکرات کا اگلا دور تاخیر کا شکار
- قومی خزانے کو اربوں کا ٹیکہ: نندی پور منصوبے کی ناکامی کی اصل کہانی



