ایک بار پھر سے ظلم اور ناانصافی کی تمام حدیں پار ہو چکی ہیں۔ چند دن پہلے بشریٰ بی بی کی آنکھ کی سرجری ہوئی، اور آج منگل کے روز طے شدہ ملاقات کا دن ہونے کے باوجود فیملی کو ایک بار پھر شدید ذلت اور بے بسی کا سامنا کرنا پڑا۔
فیملی لاہور سے اس امید کے ساتھ روانہ ہوئی تھی کہ اپنے پیارے کی خیریت معلوم کر سکے گی، لیکن وہاں پہنچ کر شام تک صرف انتظار کروایا گیا اور آخرکار ملاقات کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا گیا۔
یہی نہیں بلکہ مریضہ کے لیے ضروری سامان بھی اندر بھجوانے کی اجازت نہیں دی گئی، جو کہ انسانی ہمدردی کے تمام اصولوں کے منافی ہے۔ ایک ایسی خاتون جو حال ہی میں آنکھ کی سرجری سے گزری ہے، اسے اس کے قریبی اہلِ خانہ سے ملنے سے روک دینا ایک سنگین اور غیر انسانی رویہ ہے۔
فیملی شدید دکھ، کرب اور بے بسی کے عالم میں واپس لاہور لوٹنے پر مجبور ہوئی، اس احساس کے ساتھ کہ وہ جس امید پر آئی تھی وہ جان بوجھ کر توڑ دی گئی۔
یہ صرف ایک ملاقات سے انکار نہیں بلکہ انسانیت، اخلاقیات اور بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس پر جتنا بھی افسوس اور مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ نورین خان کا ٹویٹ
مزید اہم خبریں :۔
- عالمی سیاسی بحران: ایران امریکہ کشیدگی، ٹرمپ کی سیاسی شکست اور عمران خان کا اسمبلیوں سے استعفوں کا حکم
- تاریخی سنگِ میل: چین کے خلائی مشن کے لیے 2 پاکستانی خلا نورد شارٹ لسٹ
- آئی ایم ایف کی 7 ارب ڈالر پیکیج کے لیے 11 نئی کڑی شرائط
- اسلام آباد میں غیر معینہ مدت کا لاک ڈاؤن: پاک-امریکا-ایران مذاکرات کے انتظار میں عوام خوار
- عالمی سیاسی منظرنامہ: ایران کا اسرائیل کو بڑا سرپرائز، ٹرمپ کی مشکلات اور پاکستان کی داخلی صورتحال کا تجزیہ



