وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ نگرانی حال ہی میں لاہور میں منعقد ہونے والی نیشنل میراتھن اینڈ سائیکلنگ ریس نے ایک نیا اور حیران کن تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اگرچہ اس شاندار ایونٹ کا بنیادی مقصد شہریوں میں صحت مندانہ طرزِ زندگی اور کھیلوں کے رجحان کو فروغ دینا تھا، لیکن اس وقت ایونٹ کی شفافیت اور انتظامی امور پر سنگین سوالات اٹھ گئے جب یہ ہوشربا انکشاف ہوا کہ کچھ ایتھلیٹس نے پیدل ریس مکمل کرنے کی بجائے بیچ راستے میں موٹر سائیکلوں (بائیکس) کا استعمال کیا۔
حالیہ رپورٹس اور عینی شاہدین کے مطابق، لاہور کی مختلف شاہراہوں سے گزرنے والی اس میراتھن میں بعض شرکاء نے انتہائی چالاکی سے دھوکہ دہی اور فریب کا سہارا لیا۔ متعدد کینڈیڈیٹس نے کیمروں کی آنکھ اور انتظامیہ کی نظروں سے بچ کر روٹ کے درمیانی حصوں میں موٹر سائیکلوں پر سفر کیا۔ یہ شرکاء راستے کا بڑا حصہ بائیکس پر طے کرتے اور منزل (Finish Line) کے قریب پہنچ کر خاموشی سے اتر جاتے، تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ انہوں نے یہ ساری مسافت دوڑ کر طے کی ہے۔
اس ایونٹ کے لیے مقامی انتظامیہ کی جانب سے اگرچہ سکیورٹی اور ٹریفک کی روانی کے خصوصی پلان ترتیب دیے گئے تھے اور شہریوں کے لیے متبادل راستوں کا بھی اعلان کیا گیا تھا، لیکن روٹ پر مانیٹرنگ کا نظام انتہائی ناقص ثابت ہوا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ راستے میں مناسب چیک پوائنٹس اور جدید ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹم کی عدم موجودگی نے ان دھوکہ باز کھلاڑیوں کو اس فریب کاری کا موقع فراہم کیا۔ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے ایونٹ میں اس طرح کی بدانتظامی نے پورے مقابلے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے کے شواہد اور خبریں وائرل ہونے کے بعد، حقدار اور محنت کرنے والے ایتھلیٹس میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ عوامی اور کھیلوں کے حلقوں کی جانب سے حکومتِ پنجاب اور بالخصوص وزیر اعلیٰ مریم نواز سے یہ پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس میراتھن اسکینڈل کی فوری اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔ روٹ پر موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا بغور جائزہ لیا جائے اور جن افراد نے فریب کے ذریعے پوزیشنز حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
کھیل ہمیشہ میرٹ، محنت اور دیانتداری سکھاتے ہیں۔ حالیہ لاہور نیشنل میراتھن میں پیش آنے والا یہ افسوسناک واقعہ کھیل کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ ایسے تمام ایونٹس میں شرکاء کی مانیٹرنگ کے لیے آر ایف آئی ڈی (RFID) چپس اور ڈرون کیمروں کا استعمال لازمی قرار دیا جانا چاہیے، تاکہ کسی کا حق نہ مارا جائے اور ایونٹ کی شفافیت کو سو فیصد یقینی بنایا جا سکے۔
عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا نیا کھیل امریکہ اور ایران کے درمیان…
عمران خان، بشریٰ بی بی سمیت تحریک انصاف کے کئی اسیران تقریباً تین سال سے…
ایران کا پاکستان میں مذاکرات سے انکار تازہ ترین سفارتی پیش رفت کے مطابق، ایران…
چھ مہینوں سے عمران خان کی بہنیں اڈیالہ جیل کے باہر 10 ہزار بندہ مانگ…
امریکہ، ایران کشیدگی اور بلیک لسٹ برقرار: مذاکرات کا اگلا دور تاخیر کا شکار تعارف…
نندی پور پاور پراجیکٹ: ترقی کا دعویٰ یا 57 ارب روپے کی بربادی؟ پاکستان کی…
This website uses cookies.