مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، ابنائے ہرمز کا محاصرہ اور بدلتی ہوئی عالمی صورتحال

عالمی حالات اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست میں اس وقت تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔ ان واقعات کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں، اور اس کھینچ تان میں روس، چین، اسرائیل اور پاکستان بھی براہ راست یا بالواسطہ شامل ہو چکے ہیں۔

ٹرمپ کا ابنائے ہرمز کے محاصرے کا اعلان اور عالمی تجارتی خطرات

مذاکرات کی ناکامی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک سخت اور حیران کن بیان سامنے آیا ہے جس میں ابنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کا سمندری محاصرہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اعلان نے تیسری عالمی جنگ کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایران نے اس دھمکی کا واضح جواب دیا ہے کہ اگر اس راستے سے امریکی بحری جہاز گزرنے کی کوشش کریں گے تو انہیں تباہ کر دیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق، ایران کو اپنا دفاعی اور تجارتی سلسلہ جاری رکھنے کے لیے بحیرہ خزر (Caspian Sea) کے ذریعے روس اور چین سے رسد مل سکتی ہے، اس لیے امریکہ کے اس اقدام سے الٹا عالمی سطح پر تجارت شدید متاثر ہوگی اور تیل کا بحران پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

سعودی عرب میں پاکستانی افواج کی تعیناتی اور ممکنہ خدشات

اس وقت سعودی عرب کے کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پر تقریباً 13 ہزار پاکستانی فوجی تعینات کیے جا چکے ہیں، اور مختلف رپورٹس کے مطابق اس تعداد کو 50 ہزار تک بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ موجودہ عالمی کشیدگی میں یہ تعیناتی کافی حساس نوعیت کی ہے کیونکہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ چھڑتی ہے، اور ایران جوابی کارروائی کے طور پر امریکی اتحادیوں یا ان کے اڈوں پر حملہ کرتا ہے، تو وہاں موجود پاکستانی فوجیوں اور جہازوں کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

اسرائیل اور لبنان کا تنازع اور ترکی کا سخت موقف

مشرق وسطیٰ کے دوسرے محاذ پر، اسرائیلی فوج لبنان میں داخل ہو چکی ہے اور دونوں کے درمیان شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس صورتحال پر ترکی کے صدر طیب اردگان نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں، جس سے خطے میں جنگ کے مزید پھیلنے کا خدشہ ہے۔

پاکستان میں سفارتی ہلچل اور پاک افغان معاملات

اسلام آباد میں اس وقت بڑی سفارتی اور سیاسی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ ایک طرف ایرانی وفد کی واپسی میں اچانک تاخیر ہوئی ہے، تو دوسری جانب دو اہم امریکی شخصیات کی بھی پاکستان میں موجودگی کی اطلاعات ہیں۔ اس کے علاوہ چین میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات کے بعد کابل کے اوپر دو پاکستانی ڈرونز کی پروازوں کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں جو کہ خطے کی سیکیورٹی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ مزید برآں، سکردو میں سپریم لیڈر کے چہلم کے موقع پر لاکھوں عوام کی شرکت نے بھی دنیا کی توجہ حاصل کی ہے۔

سوشل میڈیا کی صورتحال اور قومی سیاست

پاکستان کی اندرونی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو سوشل میڈیا بالخصوص ‘ایکس’ (X) پر اس وقت تحریک انصاف (PTI) کے حامیوں کا واضح غلبہ ہے جو کہ مقتدرہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ دوسری طرف، ان انتہائی سنگین عالمی اور ملکی حالات کے باوجود چند مقامی صحافیوں کی پوری توجہ صرف اور صرف سیاسی مخالفت اور عمران خان پر تنقید تک محدود ہے، اور وہ اصل بین الاقوامی مسائل اور ان کے پاکستان پر اثرات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ اب تمام تر نگاہیں پی ٹی آئی کے آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل اور ان کے آنے والے جلسے کے نتائج پر مرکوز ہیں۔

یوٹیوب پر مکمل ویڈیو دیکھنے کے لیے یہاں پر کلک کریں👇🏻

مزید اہم خبریں:۔

شیئر کریں
Scroll to Top