ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ: حقیقت یا کوئی سازش؟
حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر وائٹ ہاؤس کے ایک اہم ڈنر کے دوران قاتلانہ حملہ ہوا ہے جس نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ 31 سالہ حملہ آور، جس کا نام کول تھامس ایلن بتایا جا رہا ہے، بھاری ہتھیاروں کے ساتھ دنیا کے اس انتہائی محفوظ ترین مقام پر پہنچ گیا۔ اس واقعے کے بعد وہاں شدید بھگدڑ مچی اور سیکیورٹی کی ناکامی کھل کر سامنے آگئی۔ اس حملے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ حملہ آور نے مبینہ طور پر اسرائیلی فوج سے مشابہت رکھنے والی شرٹ پہن رکھی تھی۔ کچھ تجزیہ کار اسے 1981 میں صدر ریگن پر ہونے والے حملے سے تشبیہ دے رہے ہیں اور اسے الیکشن سے قبل کی کوئی گیم یا پولیٹیکل اسٹنٹ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر کے حوالے سے اہم پیشرفت
مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ مشہد میں ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ایک بہت بڑی تصویر سامنے آئی ہے جس نے دنیا بھر میں کئی چہ مگوئیوں کو جنم دیا ہے۔ اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد ان کی حیات اور مستقبل کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں، جس نے خطے کی سیاست میں ایک نیا سسپنس پیدا کر دیا ہے۔
ایران اور امریکہ کشیدگی: کیا پاکستان مذاکرات سے باہر ہو گیا ہے؟
ایک اور اہم سفارتی پیشرفت میں ایرانی وزیر خارجہ نے عین موقع پر اپنا جہاز تبدیل کیا اور عمان کے دورے پر روانہ ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق اس سفر میں پاکستانی فیلڈ مارشل کا خصوصی طیارہ بھی استعمال کیا گیا۔ تاہم، دوسری جانب ٹرمپ کی جانب سے یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ اب انہیں معاملات کے حل کے لیے پاکستان کی ضرورت نہیں ہے اور وہ براہ راست رابطے (Direct Dialing) کریں گے۔ اس بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید پاکستان کو اب ان اہم عالمی مذاکرات سے سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے۔
برطانیہ میں پاکستانی سفارت خانے کے باہر بڑا احتجاج
عالمی سطح پر پاکستان کے لیے ایک اور تشویشناک خبر برطانیہ سے آئی ہے جہاں پاکستانی سفارت خانے کے سامنے غیر ملکیوں اور مقامی افراد کی جانب سے ایک بڑا احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین کا پرزور مطالبہ تھا کہ پاکستانی سفارت خانے کو بند کیا جائے اور پاکستان کو کامن ویلتھ (دولت مشترکہ) سے فوری طور پر نکال دیا جائے۔
پاکستان کی اندرونی سیاسی اور معاشی صورتحال
ملکی سطح پر سیاسی اور معاشی حالات انتہائی نازک موڑ پر ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے خوشحال گڑھ میں ایک بڑا ‘امن جرگہ’ منعقد کیا جا رہا ہے جس میں لانگ مارچ اور بارڈر بند کرنے جیسے سخت آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ شمالی وزیرستان میں کرفیو لگا کر معدنیات نکالنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے جس سے مقامی سطح پر سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ بلوچستان میں بھی سیاسی تناؤ برقرار ہے۔
معاشی محاذ پر بھی عوام کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر کم ہیں جبکہ آئندہ سال تک اربوں ڈالرز کی ادائیگیاں سر پر کھڑی ہیں۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 50 سے 55 روپے فی لیٹر لیوی لگنے کا امکان ہے جس سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔ ان کٹھن حالات میں اپوزیشن کی قیادت پرامن مزاحمت کی حکمت عملی اپنا رہی ہے اور یہ بیانیہ زور پکڑ رہا ہے کہ اگر عوام پرامن طریقے سے ڈٹ گئی تو حالات بدل سکتے ہیں۔







