امریکی الیکشن اور ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی
امریکہ میں مڈ ٹرم الیکشن سے قبل سیاسی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مستقبل اور فیصلوں کے حوالے سے اہم پیش گوئیاں سامنے آ رہی ہیں۔ دوسری جانب امریکی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے اور جی سیون (G7) ممالک میں امریکہ کو تیل اور توانائی کے بدترین بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ صورتحال کی نزاکت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایران نے عالمی سطح پر آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ اب وہاں سے گزرنے والے مخالف ممالک کے تجارتی اور جنگی جہازوں پر باقاعدہ ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔ ایران نے کشیدگی کم کرنے اور معاملات طے کرنے کے لیے 11 اہم نکات بھی جاری کیے ہیں، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر کسی بھی قسم کی وقتی بات چیت نہیں کرے گا۔
عرب ممالک میں تقسیم اور اسرائیل کی حکمت عملی
مشرق وسطیٰ کی سیاست بھی ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے مسلم ممالک کو تقسیم کرنے کا منصوبہ بظاہر کامیاب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اشارے مل رہے ہیں، جس سے عرب دنیا میں واضح دو دھڑے بنتے نظر آ رہے ہیں۔
پاکستان کی اندرونی سیاست: اداروں کا ٹکراؤ اور حکومتی چیلنجز
پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر بھی بے یقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ فیصلہ ساز حلقوں اور سیاسی قیادت کے درمیان اندرونی تناؤ کی خبریں زیرِ گردش ہیں۔ ایک مبینہ فرنٹ مین کی بھاری کرپشن اور رقوم کی منتقلی کے حوالے سے ہونے والے انکشافات نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں ایک عمارت کو خالی کروانے کے لیے رینجرز کے غیر قانونی استعمال پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو شدید تنقید کا سامنا ہے، جس کے بعد حکومتی عہدیداروں کی اہم اور ہنگامی ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔
اڈیالہ جیل میں ملاقاتیں اور سیاسی ڈیل کی افواہیں
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں اور انہیں منانے کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت کو مختلف ڈیلز کی پیشکش کی گئی ہے لیکن وہ کسی قسم کے سمجھوتے کے بجائے قید کی سختیاں برداشت کرنے کے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان کی اہلیہ کی ثابت قدمی کو بھی سیاسی حلقوں میں اہم نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب جمائما گولڈ سمتھ کی حالیہ شادی کو بنیاد بنا کر مخالفین کی جانب سے سیاسی کیچڑ اچھالنے کی کوششیں بھی متوقع ہیں، تاہم سنجیدہ سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک ذاتی زندگی کے معاملات کو ملکی سیاست سے دور رکھنا چاہیے۔
آئی ایم ایف کا دباؤ اور عوام کے لیے معاشی مشکلات
معاشی محاذ پر پاکستان کے لیے مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے سامنے مکمل ہتھیار ڈالنے اور کڑی شرائط تسلیم کرنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر ہوشربا اضافے کا قوی امکان ہے، جو مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈالے گا اور ملکی معیشت کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کرے گا۔







