عمران خان کیوں ضروری ہے؟ پاکستان کی ایکسپورٹس کا مختلف ادوار میں تقابلی جائزه

پاکستان کی ایکسپورٹس کی صورتحال: ایک تفصیلی جائزہ

کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا انحصار اس کی برآمدات (Exports) پر ہوتا ہے۔ پاکستان کی معاشی تاریخ میں مختلف حکومتوں کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے ایکسپورٹس کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، 2013 سے لے کر اب تک پاکستان کی تجارت اور ایکسپورٹس میں مختلف رجحانات دیکھنے میں آئے ہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم نواز شریف، عمران خان اور شہباز شریف کے ادوارِ حکومت میں ملکی ایکسپورٹس کی صورتحال کا تقابلی جائزہ لیں گے۔

نواز شریف کا دورِ حکومت (2013 سے 2018) – معاشی جمود

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2013 سے 2018 کے دوران پاکستانی تجارت اور ایکسپورٹس میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔ اس دور میں ایکسپورٹ میں اضافے کے بجائے تقریباً ایک ارب ڈالر کی کمی دیکھنے میں آئی۔ سال بہ سال ایکسپورٹس کی صورتحال کچھ یوں رہی:

  • 2013: تقریباً 31 سے 32 ارب ڈالر
  • 2014: تقریباً 30 سے 33 ارب ڈالر
  • 2015: تقریباً 29 سے 30 ارب ڈالر
  • 2016: تقریباً 27 سے 28 ارب ڈالر
  • 2017: تقریباً 27 سے 28 ارب ڈالر
  • 2018: تقریباً 24 سے 30 ارب ڈالر (مختلف ذرائع کے مطابق)

نتیجہ: اس دور میں مجموعی طور پر ایکسپورٹس میں کمی آئی اور یہ شعبہ جمود (Stagnation) کا شکار رہا۔ اس عرصے کے دوران کوئی خاص اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔

عمران خان کا دورِ حکومت (2018 سے 2022) – ایکسپورٹس میں نمایاں گروتھ

عمران خان کے دورِ حکومت میں پاکستانی ایکسپورٹس میں ایک مثبت اور واضح رجحان دیکھنے میں آیا۔ اگرچہ ابتدائی سالوں میں چیلنجز کا سامنا رہا، لیکن بالآخر ایکسپورٹس نے ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھوا۔

  • 2018: تقریباً 30 ارب ڈالر
  • 2019: تقریباً 28 ارب ڈالر
  • 2020: تقریباً 27 سے 28 ارب ڈالر
  • 2021: تقریباً 31 سے 32 ارب ڈالر
  • 2022: تقریباً 39 سے 40 ارب ڈالر

نتیجہ: اعداد و شمار کے مطابق اس دور میں ایکسپورٹس میں واضح اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ملکی برآمدات میں تقریباً 10 ارب ڈالر سے زائد کی شاندار گروتھ (Growth) ریکارڈ کی گئی۔

موجودہ دورِ حکومت (2022 سے اب تک) – مسلسل گراوٹ

2022 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد ملکی ایکسپورٹس کو شدید دھچکا لگا ہے۔ عمران خان کی حکومت گرائے جانے کے بعد ملکی برآمدات میں اضافے کے بجائے کمی کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

  • 2022: تقریباً 39 سے 40 ارب ڈالر
  • 2023: تقریباً 35 سے 36 ارب ڈالر
  • 2024: تقریباً 36 سے 37 ارب ڈالر
  • 2025: تقریباً 35 سے 37 ارب ڈالر
  • 2026: تقریباً 2 سے 3 ارب ڈالر ماہانہ

نتیجہ: موجودہ معاشی صورتحال کے پیشِ نظر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سال پاکستان کو 18 ارب ڈالر کا بھاری نقصان ہو گا۔ 2022 کے بعد سے ملکی ایکسپورٹس میں اب تک تقریباً 7 ارب ڈالر کی کمی واقع ہو چکی ہے۔

تجزیاتی نچوڑ:
مذکورہ بالا اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ 2013 سے 2018 تک ایکسپورٹس جمود کا شکار رہیں اور ان میں صفر اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس، عمران خان کے دورِ حکومت (2018-2022) میں ایکسپورٹس میں 10 ارب ڈالر کا نمایاں اضافہ ہوا۔ لیکن 2022 میں ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے یہ رجحان تنزلی کا شکار ہے، اور ایکسپورٹس بڑھنے کے بجائے اب تک تقریباً 7 ارب ڈالر گر چکی ہیں، جو کہ ملکی معیشت کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔

شیئر کریں

تازہ ترین خبریں

Scroll to Top