غلط فہمیاں اور اعترافِ شکست: طاقت کے نشے سے زمینی حقائق تک

غلطیاں اور غلط فہمیاں

ماہرنگ بلوچ کو گرفتار کیا گیا تو غلط فہمی ہوگئی کہ عالمی تنظیموں اور حکومتوں کا دباؤ فوج کو انہیں رہا کرنے پر مجبور کردے گا۔ یہی غلط فہمی ایمان مزاری کی گرفتاری کے وقت بھی ہوگئی، کہ ان کے روابط اور ان کا اثر جس سوسائٹی میں ہے وہ ان کے لیے کوئی نا کوئی رستہ نکال لے گی۔ ایسا نہیں ہوسکا۔ اس غلط فہمی پر افسوس ہے۔

مراعات یافتہ طبقہ اور قانون کا دوہرا معیار

یہ سب غلط فہمیاں بے سبب بھی نہیں ہیں۔ جانے پہچانے وکیل افضال عظیم پاہٹ کی سزا معطل ہوگئی، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید کی سزا معطل نہیں ہوسکی۔ کیونکہ ان کی وکلاء برادری نے ان کے لیے کوئی نا کوئی رستہ نکال لیا اور عدالتیں بھی ایک متحرک وکیل رہنما کے لیے ڈھیلی پڑ گئیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ذاتی طور پر اس چیز سے کوئی اختلاف ہے۔ جسے جو گنجائش ملتی ہے لینی چاہیے۔ ہم لوگ جنگجو نہیں ہیں جو ماریں کھاتے رہیں۔

عالمی حالات اور امریکی انتخابات کی غلط فہمی

غلط فہمیاں ہوتی رہتی ہیں۔ یہ غلط فہمی بھی ہم میں سے کئیوں کو ہوگئی تھی کہ جس طرح کی حمایت جوبائیڈن کی جانب سے فوج کو میسر ہے شاید شاید شاید ٹرمپ کے آنے سے وہ میسر نہ رہے گی۔ کیونکہ امریکی الیکشن مہم میں ٹرمپ نے بار بار نئی جنگیں شروع نہ کرنے کا اعلان کیا۔ امریکہ نے خطے میں جنگ نہ لڑنی ہو تو امریکہ کو پاکستانی فوج کی کوئی ضرورت نہیں اور امریکی حمایت نہ ہو تو فوج پاکستان پر آدھا گھنٹہ بھی قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتی۔

غلط فہمیوں کے سلسلے دراز تھے، دوطرفہ تھے۔ ابتدائی دنوں میں ٹرمپ انتظامیہ نے فوج کو اور عاصم منیر کو خوفزدہ کرنے کے لیے عمران خان کی رہائی کے مطالبوں پر مبنی سوشل میڈیا پوسٹس بھی کیں۔ یہاں ٹرمپ کو غلط فہمی تھی کہ شاید انہیں ڈرانے کے لیے کوئی بہت زیادہ دباؤ ڈالنا پڑے گا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ یہ وہ دروازہ ہے جہاں ‘کنڈی نا کھڑکا سوہنیا سدھا اندر آ’ والا حساب ہے۔

فوج اور عمران خان: غلط فہمیوں کا ٹرک

اب اسی طرح فوج غلط فہمیوں کا ٹرک لادے عمران خان کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ ملک ٹھیک کردیں والی غلط فہمی نکل گئی، سرمایہ کاری لے آئیں گے والی غلط فہمی نکل گئی، ریڈ لائن والی غلط فہمی اڑ گئی، عوام ہمارے ساتھ ہیں والی غلط فہمی جاتی رہی، الیکشن مینج کرنے والی غلط فہمی جاتی رہی۔ ہم مقبول ہیں والی غلط فہمی نکل گئی۔ اب ایک خبط عظمت بچا ہے۔ وہ نہیں جاتا۔ سطحی لوگوں کا تو بالکل بھی نہیں جاتا۔ لیکن ایک دن ایک آخری غلط فہمی ہے وہ ضرور جاتی رہے گی۔

دانشوروں اور خود ساختہ سقراطوں کا بے نقاب ہونا

غلط فہمیوں کا یہ سلسلہ صرف ہمارے اور فوج تک محدود نہیں تھا۔ بڑے بڑے سقراط، بقراط، دانشور، تبصرہ پاڑ ایسے ننگے ہوئے کہ ہمیں شرم آنے لگی، انہیں نہیں آئی۔ جب انہیں مزید برہنہ دیکھا تو گھن آنے لگی۔ جو فوج کے بندے بتائے جاتے رہے وہ جلاوطن ہیں، وہ اذیتیں بھگت رہے ہیں، ان پر ہر طرح کی سختیاں ٹوٹ رہی ہیں۔ جو فوج کے مخالف اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بتائے جاتے رہے وہ فوج کی بغلوں سے چپکی ہوئی میل ثابت ہورہے ہیں۔

نتیجہِ فکر: تھوڑا سا فرق ہے، ہماری غلط فہمیاں نکلتی جارہی ہیں لیکن ہم ان کی غلط فہمیاں نکالے جارہے ہیں۔

شیئر کریں

تازہ ترین خبریں

Scroll to Top