ایک خبر کے مطابق، پاکستان نے گزشتہ ساڑھے تین سالوں کے دوران اوپن مارکیٹ سے 27 ارب ڈالرز خریدے ہیں۔
یہ خریداری جنوری 2023 سے شروع ہوئی تھی، جس کے تحت پہلے سال 4.5 ارب ڈالرز، 2024 میں 9 ارب ڈالرز، 2025 میں تقریباً 8 ارب ڈالرز اور 2026 کے اب تک کے مہینوں میں مزید 4.5 ارب ڈالرز خریدے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ اوورسیز پاکستانی تقریباً 36 ارب ڈالر سالانہ بھیجتے ہیں، اس کے باوجود 27 ارب ڈالر مارکیٹ سے خریدنا حکومت کی مکمل ناکامی کا ثبوت ہے۔
اگر ہم نوٹ چھاپ کر ڈالر خریدیں گے تو ہماری کرنسی کی ویلیو گر جائے گی، مصنوعی طریقے سے روپے کو گرنے سے روک کر رکھنا بالآخر بڑی افراط زر کا باعث بنتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ عمران خان کے ساڑھے تین سال میں کتنے ڈالر خریدے گئے؟
سوال یہ ہے کہ حکومت ڈالر کیوں خریدتی ہے؟
جب بھی حکومت کے پاس قرضے واپس کرنے، تیل اور گیس خریدنے، دوسری درآمدات خریدنے کے لیے ڈالر نہیں ہوتے، وہ روپے چھاپ کر اوپن مارکیٹ سے ڈالر خریدتی ہے۔ صرف اس ایک سچائی سے 9 اپریل 2022 کے بعد حکومتی کارکردگی کی قلعی کھل جاتی ہے۔
ایک اچھی معیشت ڈالر اپنی ایکسپورٹس سے کماتی ہے۔
احمد جواد
مینوں ڈالر وکھا، میرا موڈ بنے
— Ahmad Jawad (@AhmadJawadBTH) May 9, 2026
ایک خبر کے مطابق، پاکستان نے گزشتہ ساڑھے تین سالوں کے دوران اوپن مارکیٹ سے 27 ارب ڈالرز خریدے ہیں
یہ خریداری جنوری 2023 سے شروع ہوئی تھی، جس کے تحت پہلے سال 4.5 ارب ڈالرز، 2024 میں 9 ارب ڈالرز، 2025 میں تقریباً 8 ارب ڈالرز اور 2026 کے اب تک کے…







