صرف عمران خان کو پھنسانے اور ساری پارٹی کو تہس نہس کرنے کیلئے 9 مئی واقعہ کے اصل حقائق کو مسخ کر کے 9 مئی کو ریاست نے جس طرح استعمال کیا، اُس کے بعد اس انتقامی مقدمے کی نہ کوئی لاج باقی رہی اور نہ ہی ساکھ، 9 مئی کی کُل اوقات یہ ہے کہ 3 سال گزر جانے کے باوجود (ریاست کے مطابق مرکزی ملزم) عمران خان کے تمام مقدمات میں ٹرائل ہی شروع نہیں ہو سکے، جبکہ عمران خان مفرور یا لاپتہ نہیں بلکہ تین سال سے ریاست ہی کی حراست میں ہیں۔
جس مقدمے میں شریک ملزمان کو دھڑا دھڑ تھوک کے حساب سے ایک ہی جیسی 10،10 سال کی لکھی لکھائی سزائیں سنا دی جائیں لیکن مرکزی ملزم کا ٹرائل ہی نہ چلایا جائے تو اس سے بھونڈا اور ناقص مقدمہ اور کیا ہو سکتا ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ توشہ خانہ، عدت، القادر اور سائفر جیسے مقدمات تو 9 مئی کے سامنے کچھ حیثیت نہیں رکھتے، لیکن ریاست نے اُن مقدمات میں تو فٹافٹ ٹرائل چلوا کر سزائیں سنا دیں جبکہ جو مقدمہ ریاست کا سب سے تگڑا مقدمہ تھا اُسے ہاتھ ہی نہیں لگا رہے۔ جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے، وہ کھڑا نہیں رہ سکتا۔
#مئی9_یوم_جبر
تحریر: امیر عباس
صرف عمران خان کو پھنسانے اور ساری پارٹی کو تہس نہس کرنے کیلئے 9 مئی واقعہ کے اصل حقائق کو مسخ کر کے 9 مئی کو ریاست نے جس طرح استعمال کیا، اُس کے بعد اس انتقامی مقدمے کی نہ کوئی لاج باقی رہی اور نہ ہی ساکھ، 9 مئی کی کُل اوقات یہ ہے کہ 3 سال گزر جانے کے باوجود (ریاست کے مطابق مرکزی…
— Ameer Abbas (@ameerabbas84) May 9, 2026







